.

واشنگٹن اور اخوان کے درمیان رابطے بدستور قائم ہیں منحرف اخوانی رہنما

امریکا نہر سویز میں جہاز رانی اور امن معاہدے پاسداری کا خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں اخوان المسلمون کے ایک منحرف لیڈر اور ممتاز قانون دان ثروت الخرباوی نے جماعت اور امریکا کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے بارے میں بعض اہم انکشافات کیے ہیں۔

بہ قول الخرباوی: "اخوان المسلمون اور امریکا کے درمیان کئی سالوں سے قائم تعلقات اب ماضی کی بہ نسبت مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ اخوان المسلمون کی لیڈر شپ اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کی حد تک اب بھی تعلقات قائم ہیں البتہ فریقین کے درمیان کوئی مفاہمت یا سمجھوتہ نہیں ہے۔"



ان خیالات کا اظہار ثروت الخرباوی نے 'العربیہ الحدث' نیوز چینل کے پروگرام 'الحدث المصری' کو ایک انٹرویو میں کیا۔ یہ پروگرام صحافی محمود الورواری قاہرہ سے براہ راست پیش کرتے ہیں۔



اخوان المسلمون اور امریکا تعلقات کی تاریخ پر بات کرتے ہوئے ایڈووکیٹ الخرباوی نے کہا کہ جماعت اور واشنگٹن کے مابین رابطے سابق صدر انور سادات کے ایماء پر اس وقت شروع ہوئے تھے جب جماعت کی قیادت عمر تلمسانی کے پاس تھی۔ امریکا نے اخوان سے دوستی میں کوئی گہری دلچسپی نہیں لی، البتہ اس کا یہ موقف ضرور رہا ہے کہ وہ مصر کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ ایک جیسے تعلقات رکھتا ہے۔ اسی دور سے امریکا میں اخوان المسلمون کی سرگرمیوں کا بھی آغاز ہوا‘‘۔



الخرباوی نے امریکا اور جماعت کے درمیان رابطوں کی مزید تفصیلات کے لیے اپنی کتاب کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ میں نے اپنی کتاب 'سر المعبد' [معبد کے راز] میں ایسے کئی راز افشاء کئے ہیں۔ مثال کے طور پر سنہ 2003ء میں مصری سفیر ڈاکٹر سعد الدین ابراہیم نے ایک اجلاس میں اخوان المسلمون کے رہ نماؤں کو بھی شریک کیا تھا۔ اس اجلاس میں یورپی یونین کے عہدیدار بھی شریک تھے۔ یہ اجلاس جماعت اور یورپی یونین کے درمیان رابطوں کا آغاز تھا۔



اس کے بعد سنہ 2005ء میں امریکا سے اخوان المسلمون کے ایک وفد کا خفیہ مراسلہ جو قاہرہ میں جماعت کی مرکزی قیادت کو بھیجا گیا تھا منظر عام پر آیا۔ اس مراسلے میں جماعت کے وفد نے امریکیوں سے مذکرات اور ان کے نتائج کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔



ایک سوال کے جواب میں اخوان کے سابق رہنما ایڈووکیٹ ثروت الخرباوی نے کہا کہ امریکا جماعت سے اپنے کئی کام لینا چاہتا ہے۔ امریکیوں کی کوشش ہے کہ وہ جماعت سے نہر سویز میں جہاز رانی کی اجازت حاصل کریں، مصر میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور اسرائیل سمیت تمام ملکوں کے ساتھ طے پائے امن سمجھوتوں کا احترام یقینی بنایا جائے۔



ایک سوال کے جواب میں الخرباوی کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے جنوری 2011ء کے مصری انقلاب کے بعد انکشاف کیا کہ جماعت اور امریکا کے درمیان سنہ 2005ء میں خوشگوار تعلقات چلے آ رہے ہیں، تاہم اخوان المسلمون کی جانب سے اس کی تردید کی گئی تھی اور کہا تھا کہ ایک رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے صرف ڈاکٹر سعد الکتاتنی ہی امریکیوں کو ڈیل کریں گے۔



امریکا اور اخوان المسلمون کے درمیان رابطوں کے تسلسل پر ثروت الخرباوی نے جماعت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت امریکا سے رقوم کے حصول کے بارے میں الزامات کا موثر جواب نہیں دے سکی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ امریکا میں ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار میٹ رومنی نے اپنے حریف اوباما پریہ الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے اخوان المسلمون کی مدد کے لیے ایک ارب چالیس کروڑ ڈالرز خرچ کیے ہیں۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ اگر اخوان المسلمون نے یہ خطیر رقم وصول کی تو اسے کہاں صرف کیا گیا۔

منحرف اخوانی لیڈر کا کہنا تھا کہ امریکا جماعت کو مصر کی ایک مؤثر سیاسی قوت کے طور پر دیکھتا ہے۔ ما بعد انقلاب جماعت کے قد کاٹھ کا صحیح اندازہ لگانا اور بھی آسان ہو گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی اب اخوان المسلمون کے ذریعے اپنے علاقائی مفادات پورے کرنے کی کوششیں کر رہےہیں۔