.

کٹھ پتلی نہیں، شام ہی میں جئیوں اور مروں گا بشار الاسد

جلا وطنی مسترد، مجھے مغرب نہیں، شام نے بنایا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شامی صدر بشار الاسد نے ان اطلاعات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ محفوظ رخصتی چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا جینا اور مرنا شام کے ساتھ وابستہ ہے۔ وہ اپنے ملک ہی میں زندہ رہیں اور مریں گے۔

انھوں نے یہ بات روس کے ملکیتی ایک بین الاقوامی چینل آر ٹی وی کے ساتھ جمعرات کو ایک انٹرویو میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ''میں کٹھ پتلی نہیں ہوں، مجھے مغرب نے نہیں بنایا کہ میں مغرب یا کسی اور ملک میں چلا جاؤں۔میں شامی ہوں، مجھے شام نے بنایا۔ میں شام ہی میں زندہ رہوں گا اور شام ہی میں مروں گا''۔

بشارالاسد نے شام میں غیر ملکی مداخلت پر خبردار کیا اور کہا کہ ''اس طرح کے کسی اقدام کے عالمی مضمرات ہو سکتے ہیں اور اس سے علاقائی استحکام بھی اتھل پتھل ہوجائے گا''۔

شامی صدر نے دعویٰ کیا کہ ''ہم خطے میں سیکولر ازم اور استحکام کا آخری مضبوط مرکز ہیں۔ (اگر اس کو نقصان پہنچتا ہے تو) اس کے بحراوقیانوس سے بحرالکاہل تک اثرات مرتب ہوں گے''۔ ان کا کہنا تھا کہ ''میرے خیال میں مغرب شام میں مداخلت نہیں کرے گا لیکن اگر وہ ایسا کرتاہے تو کوئی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے بعد کیا ہوگا''۔

اس انٹرویو کے ویڈیو سے لیے گئے ایک اقتباس کے مطابق بشارالاسد نے کہا کہ ''شام پر چڑھائی کی جاتی ہے تو اس کی قیمت بہت بڑی ہو گی اور یہ قیمت پوری دنیا بھی نہیں چکا سکے گی''۔

واضح رہے کہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے دو روز پہلے شامی صدر کی جلاوطنی کی تجویز پیش کی تھی۔ انھوں نے العربیہ ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ شام میں جاری خونریزی اگر ختم ہو جائے تو صدر بشارالاسد کو محفوظ راستہ دیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''میں، بشارالاسد کو بین الاقوامی قانون اور انصاف کی پوری قوت کے سامنے لانے کی حمایت کروں گا۔میں انھیں برطانیہ میں پناہ دینے یا وہاں آنے کا منصوبہ پیش نہیں کر رہا ہوں لیکن اگر وہ شام سے نکلنا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں اور اس کا انتظام کیا جاسکتا ہے''۔

شام کے مسلح باغیوں سمیت حزب اختلاف کے گروپ عالمی برادری سے شام میں جاری خونریزی رکوانے کے لیے مداخلت کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں۔شام میں گذشتہ سال مارچ کے وسط سے صدر بشار الاسد کے خلاف جاری مسلح عوامی بغاوت اور خانہ جنگی میں سینتیس ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔ان میں بڑی تعداد شامی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ماری گئی ہے۔