.

اردن شامی مہاجرین کی امداد کے لیے اقوام متحدہ سے تعاون طلب

عالمی خوراک پروگرام کا شامی مہاجرین کے لیے امداد کا وعدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اردن نے اپنے سرحدی علاقے میں عارضی خیمہ بستیوں میں مقیم شامی مہاجرین کی مشکلات و مصائب کم کرنے کے لیے اقوام متحدہ سے مدد طلب کی ہے اور اس سلسلہ میں اردنی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کے عرب ریاستوں کے لیے ترقیاتی پروگرام کے بیورو کے ڈائریکٹر سے ملاقات کی ہے۔

اردنی وزیر خارجہ ناصر جودہ نے یو این ڈائریکٹر سے گفتگو کرتے ہوئے اردن کی مدد کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ کیمپوں میں مقیم شامی مہاجرین کو خدمات کی فراہمی میں اپنی ذمے داریاں پوری کر سکے۔ واضح رہے کہ اس وقت اردن میں دو لاکھ سے زیادہ شامی مہاجرین نے پناہ لے رکھی ہے۔

ان کے علاوہ اردن کی شہزادی بسمہ نے عالمی خوراک پروگرام کی ایگزیکٹو ڈائریکٹرارتھرین کوسین سےملاقات کی ہے۔ وہ اردن کے بھوک اور کم خوراکی کے خلاف قومی اتحاد (نجمہ) کی صدر ہیں۔ انھوں نے دونوں اداروں کے درمیان امدادی سرگرمیوں کے ضمن میں تعاون کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

مس کوسین نے اردنی شہزادی سے ملاقات میں ملک کے دوردراز علاقوں میں بھوک اور قحط سے نمٹنے کے لیے ایک سو روزہ مہم کے بارے میں بتایا۔ وہ شامی مہاجرین کی میزبانی کرنے والے ممالک کے دورے پر ہیں اور انھوں نے اردنی وزیرخارجہ سے بھی بھوک اور خشک سالی سے پیدا شدہ مسائل سے نمٹنے کے لیے تبادلہ خیال کیا ہے۔

مس کوسین نے دارالحکومت عمان سے اسی کلومیٹر شمال مشرق میں واقع شہر مفراق کے نزدیک واقع الزاتاری مہاجر کیمپ کا دورہ کیا اور وہاں شامی مہاجرین کو مہیا کی جانے والی سہولتوں کا جائزہ لیا۔ انھوں نے بعض شامی مہاجرین سے گفتگو کی اور ان سے ان کی ضروریات اور درپیش مسائل کے بارے میں پوچھا۔

انھوں نے کیمپ میں نیوز کانفرنس بھی کی اور کہا کہ عالمی خوراک پروگرام کو بے گھر ہونے والے شامی مہاجرین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے آٹھ کروڑ ڈالرز کی ضرورت ہے اور اس میں سے اب تک صرف تین کروڑ تیس لاکھ ڈالرز دینے کے وعدے کیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عالمی خوراک پروگرام مستقبل قریب میں کیمپ میں اسکول جانے والے شامی مہاجر طلبہ کو کھانا مہیا کرے گا اور وہ تمام شامی مہاجرین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا۔