.

قاہرہ مصر میں شریعت کے نفاذ کے حق میں مظاہرے

شریعت کو قانون سازی کا بنیادی مآخذ قرار دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہزاروں افراد نے ملک کے مجوزہ آئین میں اسلامی شریعت کو قانون سازی کا بنیادی مآخذ قرار دلوانے کے لیے نماز جمعہ کے بعد مظاہرہ کیا ہے۔

قاہرہ کے مشہور التحریر چوک میں ہزاروں افراد نے مسلسل دوسرے جمعہ کو جمع ہو کر ریلی نکالی۔ اس موقع پر انھوں اسلامی قانون کے نفاذ کے لیے زبردست نعرے بازی کی۔ وہ کہہ رہے تھے کہ مصری عوام اللہ کے قانون کا نفاذ چاہتے ہیں اور اللہ کی آخری الہامی کتاب قرآن مجید آئین سے بالاتر ہے۔

مظاہرین نے کتبے اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ ان میں سے ایک پر لکھا تھا: ''روٹی، آزادی اور شریعت''۔ واضح رہے کہ گذشتہ سال تحریر چوک میں سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران بھی یہی الفاظ دہرائے جاتے رہے تھے لیکن اب اس وقت کے ایک نعرے یا اصطلاح ''سماجی اصلاحات'' کی جگہ شریعت نے لی ہے۔

اس مظاہرے کا اہتمام راسخ العقیدہ چھوٹے اسلامی گروپوں نے کیا تھا اور سلفیوں کی جماعت حزب النور اور ملک کی سب سے منظم اور بڑی جماعت اخوان المسلمون نے اس میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا تھا۔

واضح رہے کہ اس وقت مصر کی ایک سو ارکان پر مشتمل دستور ساز اسمبلی (کونسل) ملک کا نیا آئین ترتیب دے رہی ہے۔ اس اسمبلی میں اسلامی جماعتوں کو بالادستی حاصل ہے۔ نئے آئین کو 1971ء کے آئین کی جگہ نافذ کیا جائے گا۔ اس کو گذشتہ سال مصر کی مسلح افواج کی سپریم کونسل نے سابق صدر حسنی مبارک سے اختیارات سنبھالنے کے بعد معطل کر دیا تھا۔

مصر کے اس پرانے آئین میں کہا گیا تھا کہ ''شریعت کے اصول'' قانون سازی کا بنیادی مآخذ ہوں گے لیکن اب راسخ العقیدہ مسلمان یہ کہہ رہے ہیں کہ نئے آئین میں صرف شریعت کا لفظ لکھا جائے کہ وہ قانون سازی کا بنیادی مآخذ ہو گی کیونکہ ان کے بہ قول شریعت کے اصول کی اصطلاح سے ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔

دوسری جانب مصر کے آزاد خیال (لبرلز)، سیکولرسٹ اور قبطی چرچ نے اس موقف کو مسترد کر دیا ہے۔ قبطی چرچ کے نئے پوپ تواضروس دوم نے اپنے انتخاب کے ایک روز بعد گذشتہ سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ''ایسا آئین جس میں مصر میں ایک مذہبی ریاست کے نفاذ کا اشارہ دیا گیا ہو تو ہم اس کو مسترد کرتے ہیں''۔

صدر محمد مرسی یہ کہہ چکے ہیں کہ نئے آئین میں شریعت کا حوالہ ہو گا لیکن اس اصطلاح پر سمجھوتا کیا جا سکتا ہے۔ اکتوبر میں مصر کی ایک اعلیٰ عدالت نے بھی مجوزہ آئین میں شریعت کی بالادستی کے حوالے سے اپنی مخالفت کا اظہار کیا تھا۔