.

تیز رفتاری میں بریک نہیں لگی ریاض ٹینکر حادثے کا ڈرائیور

'جائے حادثہ سے فرار نہیں ہوا تھا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
گزشتہ ہفتے مشرقی ریاض میں دھماکے سے پھٹنے والے گیس ٹینکر کے ڈرائیور رابن نے اعتراف کیا ہے کہ وہ تیز رفتاری کے باعث موٹر پر ٹینکر پر قابو نہ رکھ سکا جس کے باعث ٹینکر اوور پاس کے پلر سے ٹکرا گیا۔ رابن کا کہنا تھا کہ حادثے کہ وقت ہو اونگھ رہا تھا۔

فیول ٹینکر کے حادثے سے ریاض میں ایک انسانی المیے نے جنم لیا اور دارلحکومت میں خوف و ہراس پیدا ہو گیا۔ حکام کو مرکزی شاہراہ پر اوور پاس کو گرا کر اسے دوبارہ تعمیر کرنا پڑا جس سے وقت طور پر ٹریفک کے مسائل بھی پیدا ہوئے۔

روزنامہ 'عکاظ' سے بات کرتے ہوئے ٹینکر ڈرائیور نے بتایا کہ حادثے کے وقت ٹرک بہت تیز تھا تاہم وہ سپیڈو میٹر پر ٹینکر کی رفتار نہیں بتا سکتا۔ رابن نے بتایا کہ حادثہ صبح 07:25 پر پیش آیا۔ ایک سوال کے جواب میں ڈرائیور رابن نے بتایا کہ اسے ٹینکر میں موجود مواد کی خطرناک نوعیت کا اندازہ تھا۔

رابن نے بتایا کہ کمپنی سے ٹینکر نکالتے وقت میں نے بریک وغیرہ چیک نہیں کی، اس لئے میں ٹینکر کی ضروری مرمت کے بارے میں بتانے سے قاصر ہوں۔ جائے حادثہ سے اس کے فرار کے بارے میں سوال پر رابن نے کہا کہ میں متعلقہ حکام کو حادثے کی اطلاع دینا چاہتا تھا لیکن عربی سے ناواقفیت کی وجہ سے ایسا نہ کر سکا، تاہم بعد ازاں مجھے پولیس نے گرفتار کر کے علاج کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا۔

ادھر گیس فروخت کرنے والی کمپنی نے اپنے ڈائریکٹر جنرل کے اس بیان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے کہ وہ حادثے میں ہونے والے مادی نقصان کو پورا کرے گی۔ کمپنی نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے انچارج نے متاثرہ افراد کو حکومت کی اس کمیٹی سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی ہے کہ جو نقصان کا اندازہ لگا رہی ہے تاکہ حکومت کو ازالے کی تجویز پیش کر سکے۔

شہری دفاع کے ایک عہدیدار کے مطابق اتوار نقصانات کا تخمینہ لگانے کا آخری ڈیڈ لائن ہے۔ انہوں نے متاثرہ افراد سے کہا کہ وہ جلد از جلد کمیٹی کو اپنے نقصانات سے آگاہ کریں۔