.

جارج صبرا شامی قومی عبوری کونسل کے نئے چیئرمین منتخب

اپوزیشن کے کئی نمائندوں کی اجلاس میں عدم شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
قطر کے دارالحکومت دوحہ میں شام کی اپوزیشن جماعتوں کے گرینڈ اجلاس میں کیمونسٹ خیالات کے حامل عیسائی سیاست دان جارج صبرا کو قومی عبوری کونسل کا نیا صدر جبکہ اخوان المسلمون کے فاروق طیفور کو نائب صدر منتخب کیا گیا ہے۔



دوحہ میں اپوزیشن کے دو روزہ اجلاس میں کونسل کی نئی قیادت کے چناؤ کا مشکل مرحلہ طے کر لیا گیا۔ آخری مرتبہ کی رائے شماری میں جارج صبرا کو مجموعی طور کونسل کے 41 ممبران میں سے 28 کے ووٹ حاصل ہوئے۔ یہ اجلاس شام کی تمام اپوزیشن جماعتوں کو متحد کرنے اور انہیں قومی عبوری حکومت کی تشکیل کے لیے کسی ایک فارمولے پر متفق کرنے کے لیے طلب کیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود اپوزیشن کے کئی گروپوں کے نمائندےاجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔



ایس این سی کے نو منتخب صدر 65 سالہ جارج صبرا مذہباً عیسائی اور سیاسی حوالے سے کیمونسٹ نظریات کے حامل لیڈر ہیں۔ صدر منتخب ہونے کے بعد ایک صحافی نے ان سے پوچھا کہ عالمی برادری ان سے کس قسم کی توقعات رکھتی ہے؟ اس پر جارج صبرا نے کہا کہ ’’ہمارے سامنے اس وقت سب سے بڑا ہدف شام میں خون خرابے کو روکنا اور پراگندہ حال شامی عوام کی مدد کرنا ہے۔ ہم شامی عوام کو ایک مجرم نظام سے نجات کے لیے اسلحہ فراہم کریں گے اور ہر میدان میں ان کی مدد کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے تین بار کہا کہ ’’ہمیں اسلحہ چاہیے‘‘۔

کونسل سے باہر قیادت کا خیر مقدم

قومی عبوری کونسل کے باہر کے شامی اپوزیشن رہ نماؤں نے جارج صبرا کے انتخاب پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نئی قیادت کے چناؤ کا خیر مقدم کیا ہے۔ کونسل کے سابق سیکرٹری جنرل وائل مرزا کا کہنا ہے کہ "جارج صبرا کے انتخاب کے بعد دنیا پر یہ واضح ہو جائے گا کہ شامی عوام نہ صرف مل جل کر زندگی بسر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ان کی قیادت اور عام شہریوں میں بھی کوئی فرق اور امتیاز نہیں ہے"۔

خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عبوری کونسل کے پہلے چیئرمین برھان غلیون ایک سنی العقیدہ مسلمان تھے۔ ان کے بعد عبدالباسط سیدا کرد جبکہ جارج صبرا ایک عیسائی شخصیت ہیں۔ اخوان المسلمون کے سابق مرشد عام صدر الدین البیانونی کا کہنا ہے کہ جارج صبرا پہلے بھی ایک مرحلے میں ہمارے امیدوار تھے۔ ہم ہر اس شخص کے ساتھ کام کر سکتے ہیں جو ملک و قوم کو نجات دلانے کے لیے اخوان المسلمون کے ایجنڈے پر چلنے کا حامی ہو۔

اپوزیشن اتحاد کے اجلاس میں غیر حاضری

شامی اپوزیشن اجلاس کا مقصد ملک کے تمام حزب مخالف دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا تھا لیکن تمام تر عالمی کوششوں کے علی الرغم بعض اپوزیشن جماعتوں کے نمائندے اجلاس سے غائب رہے۔ کونسل کے سربراہ کا انتخاب بھی بعض اپوزیشن رہ نماؤں کی عدم موجودگی اور ان کی آمد کے انتظار کے باعث تاخیر کا شکار رہا ہے۔

اپوزیشن رہ نما ریاض سیف نے اے ایف پی کو بتایا کہ بعض نمائندوں کی عدم موجودگی کے باعث ہمیں کونسل کے سربراہ کا انتخاب ایک دن تاخیر سے کرنا پڑا ہے لیکن یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ایک دوسرے اپوزیشن رہ نما ہیثم المالح نے 'ایس این سی' کے فیصلے پر تنقید کی اور کہا کہ اس وقت شامی عوام کے بہتے لہو کو روکنا سب سے اہم مقصد ہونا چاہیے جبکہ کونسل اپنی اجارہ داری کے منصوبے سوچ رہی ہے۔