جارج صبرا شامی قومی عبوری کونسل کے نئے چیئرمین منتخب

اپوزیشن کے کئی نمائندوں کی اجلاس میں عدم شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

قومی عبوری کونسل کے باہر کے شامی اپوزیشن رہ نماؤں نے جارج صبرا کے انتخاب پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نئی قیادت کے چناؤ کا خیر مقدم کیا ہے۔ کونسل کے سابق سیکرٹری جنرل وائل مرزا کا کہنا ہے کہ "جارج صبرا کے انتخاب کے بعد دنیا پر یہ واضح ہو جائے گا کہ شامی عوام نہ صرف مل جل کر زندگی بسر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں بلکہ ان کی قیادت اور عام شہریوں میں بھی کوئی فرق اور امتیاز نہیں ہے"۔

خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی" سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عبوری کونسل کے پہلے چیئرمین برھان غلیون ایک سنی العقیدہ مسلمان تھے۔ ان کے بعد عبدالباسط سیدا کرد جبکہ جارج صبرا ایک عیسائی شخصیت ہیں۔ اخوان المسلمون کے سابق مرشد عام صدر الدین البیانونی کا کہنا ہے کہ جارج صبرا پہلے بھی ایک مرحلے میں ہمارے امیدوار تھے۔ ہم ہر اس شخص کے ساتھ کام کر سکتے ہیں جو ملک و قوم کو نجات دلانے کے لیے اخوان المسلمون کے ایجنڈے پر چلنے کا حامی ہو۔

شامی اپوزیشن اجلاس کا مقصد ملک کے تمام حزب مخالف دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا تھا لیکن تمام تر عالمی کوششوں کے علی الرغم بعض اپوزیشن جماعتوں کے نمائندے اجلاس سے غائب رہے۔ کونسل کے سربراہ کا انتخاب بھی بعض اپوزیشن رہ نماؤں کی عدم موجودگی اور ان کی آمد کے انتظار کے باعث تاخیر کا شکار رہا ہے۔

اپوزیشن رہ نما ریاض سیف نے اے ایف پی کو بتایا کہ بعض نمائندوں کی عدم موجودگی کے باعث ہمیں کونسل کے سربراہ کا انتخاب ایک دن تاخیر سے کرنا پڑا ہے لیکن یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ایک دوسرے اپوزیشن رہ نما ہیثم المالح نے 'ایس این سی' کے فیصلے پر تنقید کی اور کہا کہ اس وقت شامی عوام کے بہتے لہو کو روکنا سب سے اہم مقصد ہونا چاہیے جبکہ کونسل اپنی اجارہ داری کے منصوبے سوچ رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں