.

عراق اور ایران بشار الاسد کو بچانے کے لیے ایک صف میں کھڑے ہیں

مجھے سنی مسلک کی بنا پر نشانہ بنایا جا رہا ہے: طارق ہاشمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
عراق کے مفرور نائب صدر طارق ہاشمی نے کہا ہے کہ کہ اگر عالمی برادری ان کے خلاف منصفانہ قانونی کارروائی کی ضمانت دے تو وہ بغداد میں واپس جا کر عدالت کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کے پاس عراقی سیکیورٹی اداروں کا وہ تمام ریکارڈ موجود ہے جس میں میرے خلاف عائد الزامات کی بریت کے ٹھوس ثبوت ہیں۔ اس لیے میں امریکا سے مطالبہ کرتا ہوں میری بریت کے ثبوت منظر عام پر لائے جائیں۔



خیال رہے کہ عراق کے نائب صدر طارق ہاشمی کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں عدالتیں تین بار سزائے موت سنا چکی ہیں۔ ہاشمی پر دہشت گردوں کی حمایت کرنے، ملک میں بم دھماکے کرانے اور اہم شخصیات کے قتل جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ خود طارق ہاشمی ان دنوں ترکی میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ انہوں نے حکومتی الزامات مسترد کر دیے ہیں اور کہا ہے کہ انہیں سنی العقیدہ ہونے کے باعث انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔



سعوی عرب کے ایک مؤقر جریدے 'الشرق' کو دیے گئے انٹرویو میں طارق الہاشمی کا کہنا تھا کہ عراق میں ایرانی اثر و نفوذ ایک حقیقت بن چکا ہے۔ خود ایرانی قیادت بھی تکرار اور صراحت کے ساتھ اس امرکا اعتراف کر چکی ہے۔



عراقی حکومت کا ایرانی ایجنڈے پر چلنا ملک کو تباہی کی طرف لے جانے کے مترادف ہے اور یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ عراق اس وقت نمائندہ قیادت سے محروم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک اس وقت عرب ملکوں کی صف سے نکل کر ایرانی بلاک میں شامل ہو چکا ہے۔ تہران اور بغداد مل کر عوام کے قاتل بشار الاسد کو بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔



ایک سوال کے جواب میں طارق الہاشمی کا کہنا تھا کہ شام میں حکومت کی تبدیلی کی صورت میں نہ صرف عراق مین بھی سیاسی تبدیلی آئے گی بلکہ ایران کی عرب ملکوں میں مداخلت بھی کم ہو گی۔ نائب صدر نے عراقی عدالتوں کی جانب سے دہشت گردی کے الزام میں پکڑے گئے افراد کو موت کی سزائیں دینے کو حکومت کا ظلم قرار دیا اور کہا کہ عراقی حکومت سنی مسلمانوں کے ساتھ اقلیت کا برتاؤ کر رہی ہے، مجھے خدشہ ہے کہ عراق میں سنی اکثریتی علاقے صوبہ کردستان کے طرز پر علاحدگی کا مطالبہ نہ شروع کر دیں۔



وزیر اعظم نوری المالکی کے ساتھ اختلافات کے اسباب پر بات کرتے ہوئے نائب صدر نے کہا کہ ’’نوری المالکی سے اختلاف کا پہلا سبب تمام ریاستی اداورں پر فرد واحد کی اجارہ داری ہے کیونکہ المالکی ملک میں فرد واحد کی حکمرانی کو فروغ دے رہے ہیں۔ دوسرا سبب سنی مسلک کے لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔ تیسرا اختلاف وزیر اعظم کی انتظامی ناکامیوں کے بارے میں ہے کیونکہ المالکی حکومتی نظم نسق چلانے میں ناکام رہے ہیں، جسے امریکا نے بھی ناکام ریاست سے تشبیہ دے رکھی ہے۔



ایک دوسرے سوال کے جواب میں طارق ہاشمی کا کہنا تھا کہ بغداد سرکار نے میرے خلاف سازش کے تانے بانے اس لیے تیار کیے کیونکہ میں سنیوں کا نمائندہ ہوں۔ مجھ سے قبل اسی عہدے پر عبدالناصر الجنابی، محمد الدائینی، الشیخ حارث الضاری اور ڈاکٹر عدنان دلیمی بھی فائز رہ چکے ہیں۔ ان پر کوئی الزام اس لیے عائد نہیں کیا گیا کیونکہ وہ ایک مخصوص حکومتی گروپ سے تعلق رکھتے تھے۔ میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میرے بعد عراق کی کئی دوسری سرکردہ سنی شخصیات کو بھی نام نہاد مواخذے میں گھیسٹا جائے گا۔