.

اردن میں سابق ڈائریکٹر انٹلیجنس کو 13 سال قید کی سزا

عدالت نے محمد الذہبی کو 30 ملین ڈالر جرمانہ بھی کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اردن کی ایک فوجداری عدالت نے اتوار کے روز سابق ڈائریکٹرانٹلیجنس جنرل محمد الذھبی کو 13 سال قید اور 30 ملین ڈالر جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ یہ سزا انہیں اپنے عہدے کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے منی لانڈرنگ اور خورد برد کے الزامات میں سنائی گئی۔

کمرہ عدالت میں موجود فرانسیسی نیوز ایجسنی 'اے ایف پی' کے نمائندے کے مطابق عدالت نے خورد برد کئے گئے 33.4 ملین ڈالر بھی بحق سرکار ضبطی کا حکم دیا ہے۔ وکیل صفائی کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل عدالتی فیصلے کے خلاف اعلی عدلیہ میں اپیل دائر کریں گے۔

اردن کے اٹارنی جنرل نے الذہبی کے خلاف منی لانڈرنگ اور اپنے عہدے کے ناجائز استعمال جیسے الزامات کے تحت عدالتی کارروائی کا آغاز گزشتہ برس 14 جون کو کیا، جس کے بعد سابق ڈائریکٹر انٹلیجنس کو حراست میں لے لیا گیا۔

اٹارنی جنرل کی درخواست پر الذہبی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا گیا تھا۔ بینک دولت اردن کی شکایت کے بعد ان کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کو بھی حفاظتی نگرانی میں دے گئی تھی۔

یاد رہے کہ مسٹر الذہبی سن 2005سے سن 2008 تک ملک کے طاقتور انٹلیجنس محکمے کے سربراہ رہے۔ اردن میں گزشتہ برس جنوری کے بعد سے پرامن احتجاجی مظاہروں میں سیاسی، اقتصادی اصلاحات اور بدعنوانی کے خاتمے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔