.

اسرائیلی فوج کی شامی علاقے کی جانب انتباہی فائرنگ

اسرائیل بھی شامی لڑائی میں کُود پڑا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیل بھی شام میں جاری خانہ جنگی میں کود پڑا ہے اور اتوار کو صہیونی فوج نے شامی علاقے کی جانب انتباہی فائرنگ کی ہے۔

اسرائیلی ریڈیو کی اطلاع کے مطابق صہیونی فوج نے 1973ء کی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ گولان پہاڑیوں سے شامی علاقے کی جانب فائرنگ کی ہے اور اس علاقے میں قریباً تیس سال کے بعد یہ اس کی پہلی فوجی سرگرمی ہے۔

اسرائیل کے ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا ہے کہ فوجیوں نے شامی فوج کے ایک مارٹر کریو کی جانب میزائل فائر کیا ہے۔ اس سے پہلے شامی علاقے سے گولان کی پہاڑیوں کی جانب فائر کیا گیا ایک گولہ یہودی بستی کے نزدیک گرا تھا تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''فوجیوں نے اسرائیلی علاقے کی جانب فائرنگ کی ہے اور علاقے میں موجود اقوام متحدہ کی فورسز کو شامی فوج کی گولہ باری سے متعلق شکایت کر دی گئی ہے۔ اس میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ اس کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس سے سختی سے نمٹا جائے گا''۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی نگرانی کی ذمے دار اقوام متحدہ کی فورس نے فوری طور پر اس واقعہ کے حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے آرمی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''(شام کو) پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔ ہم آپ سے اعتماد سے کہہ رہے ہیں کہ کوئی گولہ نہیں گرے گا۔ اگر کوئی گولہ گرے گا تو ہم اس کا جواب دیں گے''۔ لیکن صہیونی وزیر دفاع نے اپنے اس بیان کی وضاحت نہیں کی۔

صہیونی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی گولان پر مارٹر حملے سے قبل کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں کہا کہ ''اسرائیل شام کے ساتھ سرحد پر رونما ہونے والے واقعات کا قریب نظری سے جائزہ لے رہا ہے اور وہ کسی بھی پیش رفت کے لیے تیار ہے''۔

گذشتہ جمعرات کو بھی شام کے سرحدی علاقے میں سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کے دوران فائر کیا گیا ایک مارٹر بم اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں پر آ کر گرا تھا۔ یہ گولہ پھٹ نہیں سکا تھا جس کی وجہ سے اس سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا تھا۔



واضح رہے کہ اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں کے نزدیک واقع شام کے علاقے میں سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں اور گذشتہ ایک ہفتے کے دوران پہلے بھی اس علاقے سے فائر کیے گئے گولے سرحد پار جا کر گرے ہیں۔



گذشتہ ہفتے کے روز شامی فوج کے تین ٹینک گولان کی پہاڑیوں کے غیر فوجی علاقے میں داخل ہوئے تھے۔ اس پر صہیونی ریاست نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کیا تھا اور اسے ایک خطرناک پیش رفت قرار دیا تھا۔



اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ ان تمام واقعات کا مقصد اسرائیل کو ہدف بنانا نہیں تھا جبکہ صہیونی فوج کے سربراہ جنرل بینی گانٹز نے گذشتہ اتوار کو ایک بیان میں گولان کی چوٹیوں پر تعینات فوجیوں کو خبردار کیا تھا کہ ''یہ شامی ایشو ہے اور یہ ہمارا ایشو بھی بن سکتا ہے''۔



یاد رہے کہ اسرائیل نے شام کے تزویراتی اہمیت کے حامل علاقے گولان کی چوٹیوں پر 1967ء کی جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔ دونوں ممالک نے 1974ء میں یوم کپور کی جنگ کے بعد فائر بندی کے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔ اس کے باوجود دونوں ممالک ٹیکنیکل طور پر حالت جنگ میں ہیں۔ اسرائیل نے اس علاقے کو 1981ء میں اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اقدام کو تسلیم نہیں کیا تھا۔