.

طویل جدوجہد کے بعد شامی اپوزیشن نئے اتحاد کی تشکیل پر متفق

عرب اور مغربی ممالک کی کوششیں رنگ لے آئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف سرگرم اپوزیشن جماعتوں کے درمیان موجود انتشار کے باعث تمام سیاسی قوتوں کا کسی ایک ایجنڈے اور پلیٹ فارم پر متفق ہونا مشکل سمجھا جا رہا تھا مگر شام میں قیام امن میں سرگرم عرب اور مغربی ممالک کی مساعی رنگ لے آئی ہے اور دوحہ میں تین دن سے جاری اجلاس میں شامی اپوزیشن جماعتیں ایک مشترکہ قومی ڈھانچے پر متفق ہو گئی ہیں۔

اتوار کے روز دوحہ میں شامی اپوزیشن کی جانب سے جاری ایک بیان میں یہ خوشخبری سنائی گئی کہ تمام سیاسی اور انقلابی گروپ نیشنل کولیشن فار اپوزیشن فورسز اینڈ سیرین ریولوشن (قومی اتحاد برائے حزب اختلاف اور شامی انقلاب) کے نام سے ایک وسیع قومی اتحاد کی تشکیل پر متفق ہو گئے ہیں۔



فرانسیسی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق شامی اپوزیشن اور قومی کونسل کے عہدیداروں نے ہفتے کے روز 12 گھنٹوں پر محیط مذاکرات کیے، جس کے بعد نئے قومی اتحاد کا اعلان کیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اپوزیشن کے ایک سرکردہ رہ نما سہیر الاتاسی نے کہا کہ دوحہ میں قومی اتحاد کے حوالے سے ہمارا اجلاس جاری ہے اور اب نئے اتحاد کے عہدے داروں کا انتخاب کیا جارہا ہے۔

شامی اپوزیشن کے ایک اور سرکردہ لیڈر ریاض سیف نے اے ایف پی کو بتایا کہ عبوری کونسل نے تمام اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل ایک قومی ڈھانچے کی تشکیل کی منزل طے کرلی ہے۔ شامی اپوزیشن کو جسد واحد بنانے کے لیے یہ ایک مشکل اور صبر آزما مرحلہ تھا لیکن اب یہ طے کر لیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تمام اپوزیشن قوتوں نے امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کی زیر صدارت اجلاس میں اس قومی اتحاد کے فارمولے پر دستخط کردیے ہیں۔



درایں اثناء شامی قومی عبوری کونسل (ایس این سی) کے رکن سمیر نشار کا کہنا ہے کہ کونسل پر عالمی برادری کی جانب سے وسیع قومی اتحاد کے کسی فارمولے کو قبول کرنے کے لیے سخت دباؤ تھا۔ اس سلسلے میں ہم نے عالمی برادری سے کچھ گھنٹے کی مہلت طلب کی تھی تاکہ ہم اس موضوع پر مزید غور وخوض کر سکیں۔ تاہم اپوزیشن لیڈر ریاض سیف نے ایس این سی پر بیرونی دباؤ کی تردید کی اور کہا ہے کہ ان پر غیر ملکی دباؤ نہیں تھا البتہ اخوان المسلمون کے پارٹی انتخابات ایک رکاوٹ ضرور تھی۔ جماعت نے بھی جمعرات کو انتخابات مکمل کرکے یہ مشکل بھی حل کر دی تھی۔



خیال رہے کہ شامی اپوزیشن کے کئی دھڑے حکومت کےخلاف سرگرم ہیں لیکن ان کے آپس میں بھی اختلافات سامنے آتے رہے ہیں، جس کے باعث بشارالاسد کی جگہ اپوزیشن کی عبوری حکومت کا قیام عمل میں نہیں لایا جا سکا ہے۔ ڈیڑھ سال کے بعد پہلی مرتبہ شامی اپوزیشن قوتیں کسی ایک ڈھانچے میں شمولیت پر متفق ہوئی ہیں۔ شامی اپوزیشن کا نیا اتحاد ملک میں جاری بحران کے خاتمے میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔