.

غزہ پر اسرائیلی دہشت گردی میں 05 شہری شہید، 76 زخمی

مزاحمت کاروں کے حملوں میں 04 صہیونی فوجی زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطین کے محصور شہر غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی نئی جارحیت کے نتیجے میں ایک مزاحمت کار سمیت کم سے کم پانچ فلسطینی فلسطینی شہید اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

حملے کا نشانہ بننے والے شہری اسلامی جہاد کے عسکری ونگ القدس بریگیڈ کے ارکان بتائے جاتے ہیں۔ اسرائیلی فوج کی کارروائی سے قبل فلسطینی مزاحمت کاروں نے غزہ کی پٹی میں دراندازی کرنے والے صہیونی فوجیوں پر فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں چار اسرائیلی فوجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اسلامی جہاد کے عسکری ونگ کے القدس بریگیڈ مطابق شہید اور زخمی ہونے والے شہری تنظیم کے ارکان ہیں۔

ادھر غزہ شہر کے مشرق میں الحرارہ نامی ایک خاندان کے ہاں تعزیت کے لیے جمع لوگوں پر صہیونی فوج کے ٹینکوں نے مارٹر گولے برسائے جس کے نتیجے میں چار افراد شہید اور کم سے کم 30 افراد زخمی ہوئےہیں۔ زخمیوں میں آٹھ کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔ ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب صہیونی فوج کی جارحیت کے نتیجے میں کم سے کم 5 افراد شہید اور 76 زخمی بتائے جاتے ہیں۔

عینی شاہدین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ صہیونی فوج کے ٹینکوں نے ہفتے کی شام غزہ کی پٹی میں المنطار کے مقام پر ایک گھر پر اس وقت راکٹ باری کی جب گھر میں پہلے سے ایک شہید فلسطینی کے اہل خانہ کی تعزیت کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔ حملے کے فوری بعد علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور تمام زخمیوں کو اسپتالوں میں لے جایا گیا

ہے۔ رپورٹ کے مطابق آخری اطلاعات آنے تک زخمیوں کو اسپتال میں لے جانے کا عمل جاری تھا۔ بیشتر زخمیوں کو خانیونس کے الشفاء اور یورپی اسپتالوں میں لایا گیا ہے۔ حملے میں شہید شہریوں کی میتیں بھی انہیں اسپتالوں میں رکھی گئی ہیں۔ صہیونی فوج کی کارروائی کے بعد غزہ کی پٹی کے آس پاس قائم یہودی کالونیوں کی فضائی نگرانی سخت کر دی تھی تاکہ فلسطینیوں کی جانب سے کسی قسم کی جوابی کارروائی کو روکا جا سکے۔

اسرائیلی فوجی ذرائع کے مطابق فلسطینی مزاحمت کاروں نے ہفتے کے روز فوج کے ایک قافلے پر حملہ کر کے چار اہلکاروں کو زخمی کیا ہے جس کے جواب میں فوج کو کارروائی کرنا پڑی ہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق مزاحمت کاروں کے حملے میں ایک یہودی فوجی ہلاک بھی ہوا ہے۔ البتہ اسرائیلی فوجی ذرائع نے اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ جمعرات کے روز سے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں اس وقت اضافہ ہوا ہے جب اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے الزام عائد کیا تھا کہ غزہ کی حکمراں جماعت حماس نے اپنے جنگجوؤں کے ذریعے اسرائیلی فوجیوں کے اغواء کی کوشش کی تھی۔ اغواء کی کارروائی کو کامیاب بنانے کے لیے فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیلی فوجیوں کے قافلے کے راستے میں ایک بارودی سرنگ بھی بچھائی تھی۔ ایک فوجی جیپ اس بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد تباہ ہو گئی تھی اور اس میں سوار فوجی زخمی ہوا ہے۔