.

لبنان حزب اللہ اور سلفی عالم کے حامیوں میں لڑائی، دو افراد ہلاک

شیعہ تنظیم کی جانب سے جنوبی شہر صیدا میں بینرز لگانے پر تنازعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
لبنان کے جنوبی شہر صیدا میں شیعہ تنظیم حزب اللہ اور سنی عالم دین احمد الاسیر کے حامیوں کے درمیان مسلح لڑائی میں دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہو گئے ہیں۔

لبنانی کے ایک سکیورٹی ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ سلفی شیخ احمد الاسیر اور حزب اللہ کے حامیوں کے درمیان صیدا میں ایک فلسطینی مہاجر کیمپ کے نزدیک جھڑپ ہوئی ہے اور اس میں زخمی ہونے والوں میں علاقے میں حزب اللہ کا نمائندہ بھی شامل ہے۔

لبنانی روزنامے ڈیلی اسٹار کی اطلاع کے مطابق شیخ اسیر نے صیدا سے حزب اللہ کی جانب سے لگائے گئے بینروں کو ہٹانے کے لیے اتوار کی ڈیڈ لائن دی تھی۔ اہل تشیع وہاں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے یوم شہادت کے سلسلہ میں بینر تیار کر کے لگا رہے تھے۔

اخبار نے مزید لکھا ہے کہ شیخ اسیر نے سوشل میڈیا کے نیٹ ورکس فیس بُک اور ٹویٹر کے ذریعے اپنے حامیوں پر زور دیا تھا کہ وہ سیدون میں ریلی نکالیں۔ ان کے اس اعلان کے بعد لبنانی فوج نے شہر میں کسی بھی کشیدہ صورت حال سے نمٹنے کے لیے اپنی گاڑیاں بھیج دی تھیں۔

ابو علی درینی نامی ایک عینی شاہد نے بتایا کہ شیخ الاسیر کے حامی اسلحہ لے کر سڑکوں پر نکل آَئے تھے اور ان کی حزب اللہ کے کارکنان کے ساتھ دوبدو لڑائی ہوئی ہے۔ سلفی شیخ متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ''وہ اہل تشیع کے خلاف نہیں ہیں بلکہ حزب اللہ کے مخالف ہیں کیونکہ یہ شامی حکومت کی حمایت کر رہی ہے اور اس نے لبنانی انٹیلی جنس کے سربراہ بریگیڈئیر جنرل وسام الحسن کو قتل کیا تھا''۔

واضح رہے کہ دارالحکومت بیروت میں 19 اکتوبر کو ایک ہوٹل کے باہر کار بم دھماکے میں لبنان کی خفیہ ایجنسی اور پولیس کی انفارمیشن برانچ کے سربراہ بریگیڈئیر جنرل وسام الحسن سمیت آٹھ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ لبنان کے اہل سنت نے حزب اللہ اور شام پر ان کے قتل کا الزام عاید کیا تھا اور حزب اختلاف نے شامی صدر بشار الاسد پر اس بم حملے میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔



مقتول جنرل کے زیر قیادت لبنان کی داخلی سکیورٹی ایجنسی نے اگست میں سابق وزیر اطلاعات مشعل سلامہ کی گرفتاری میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ مسٹر سلامہ شام سے قریبی روابط رکھتے تھے اور ان پر شام کی سرپرستی میں لبنان میں بم دھماکوں کی منصوبہ کرنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔



جنرل وسام الحسن کی سربراہی میں لبنان کی داخلی سکیورٹی ایجنسی فروری 2005ء میں سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل کے بعد 2008ء تک ہوئے خودکش کار بم حملوں، قاتلانہ حملوں اور بم دھماکوں میں ملوث افراد کی گرفتاریوں اور ان سے تفتیش کے لیے بھی کام کر رہی تھی۔