.

نوری المالکی کی پالیسیوں کے خلاف جنوبی عراق میں مظاہرے

مظاہرین کا راشن کارڈز اسکیم بحالی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
جنوبی عراق کے شہروں بصرہ اور ناصریہ میں حکومت کی جانب سے راش کارڈز منسوخی کے فیصلے کے خلاف بڑے بڑے احتجاجی مظاہرے کئے جا رہے ہیں۔

تیل کی دولت سے مالا مال شہر بصرہ میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ راش کارڈز منسوخی کا فیصلہ واپس لے کیونکہ شہری اس کارڈ کو دکھا کر اپنی بنیادی ضرورت کی اشیاء حکومت سے براہ راست لے سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ راشن کارڈ اسکیم کا اجراء سابق حکومت نے کیا تھا اور اس کا مقصد عراق کے کویت پر حملے کے بعد اقوام متحدہ کی پابندیوں کے مضر اثرات سے عوام کو محفوظ بنانا تھا۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ حکومت راشن کارڈ کے ذریعے خریدی جانے والی اشیاء کی فہرست میں مزید آئیٹمز شامل کر کے تاکہ عوام اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

بصرہ یونین کونسل کے صدر صباح البزونی بھی ایک نیوز کانفرنس میں حکومت سے راشن کارڈ منسوخ نہ کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت کو کارڈز کی تقسیم اور اس کے اہل افراد تک پہنچانے کی ذمہ داری لینے کا بھی یقین دلایا ہے۔ اس کے بعد بغداد حکومت کے پاس کارڈز منسوخ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔

عراقی ذرائع کے مطابق عوامی مظاہروں کے وقت پولیس کی بڑی تعداد بھی ہمراہ تھی تاکہ امن و امان کی صورتحال بگڑنے پر فوری اقدام کیا جا سکے۔ مظاہرین شہر کی مختلف سڑکوں پر مارچ کرتے رہے اور اردگرد گھروں اور دکانوں میں موجود شہریوں نے ان کا تالیاں بجا کر اسقتبال کیا۔ تین گھنٹے تک پرامن احتجاج ریکارڈ کرانے کے بعد مظاہرین پرامن طور پر منشتر ہو گئے۔