.

ترکی اور قطر کی معاونت سے 18 ایرانی یرغمالی شام سے رہا

دمشق اور تہران کے درمیان یرغمالیوں کے تبادلے کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
ایران کے پارلیمانی اور قونصل امور کے نائب وزیر حسن قشقاوی نے انکشاف کیا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران شام میں حراست میں لئے گئے ایرانیوں کو جلد رہائی ملنے والی ہے۔ یہ اقدام ایران اور شام کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے لئے طے پانے والے معاہدے کی روشنی میں کیا جا رہا ہے۔

حسن قشقاوی نے بتایا کہ ایرانی وزارت خارجہ شام میں یرغمال ایرانی زائرین کی ترکی اور قطر کی وساطت سے رہائی کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی اس کوشش کے مثبت نتائج نکلیں گے۔

ایران کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کا پانچ رکنی وفد ترکی کا دورہ کر رہا ہے جہاں وہ ترک اور قطری وزارت خارجہ کے سیکیورٹی اہلکاروں سے ملاقات کرے گا تاکہ شام میں حکومت مخالف تنظیموں کے ہاں یرغمالیوں کی رہائی کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

العربیہ کو اپنے ذرائع سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے انقرہ دورے کے بعد ایران کا پارلیمانی وفد دوحہ جائے گا جہاں وہ شام کی حکومت مخالف مسلح تنظیموں کے ہاں یرغمال ایرانی پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کی رہائی کے معاملے پر مذاکرات کو آگے بڑھائے گا۔

ذرائع کے مطابق یرغمال بنائے گئے ایرانی بخریت ہیں حالانکہ اس سے قبل ایسی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں کہ بعض یرغمالی شامی فوج کی بمباری سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسی ذریعے کے مطابق کئی مہینوں سے شام میں ایسے ایرانی بھی زیر حراست ہیں کہ جو وہاں پر ٹیکنیکل نوعیت کی خدمات سرانجام دے رہے تھے، ان کی بھی جلد رہائی متوقع ہے۔

یاد رہے کہ امسال اگست میں 48 ایرانی زائرین کی بس کو دمشق ہوائی اڈے آتے ہوئے راستے سے مسلح شامی جنگجوؤں نے اغوا کر کے نام معلوم مقام پر منتقل کر دیا تھا۔ اس بڑی کارروائی سے پہلے جیش الحر کے جنگجو اغوا کی مختلف وارداتیں کرتے چلے آئے ہیں۔ شامی صدر بشار الاسد کی ایرانی حمایت کی وجہ سے تہران سے آنے والے زائرین اغوا کی ان وارداتوں کا خصوصی ہدف تھے۔

ایران نے شام کے حکومت مخالف گروپوں کی جانب سے یرغمال بنائے گئے اپنے شہریوں کی رہائی کے لئے انقرہ اور دوحہ سے مدد طلب کی تھی۔ ابتک دو مرحلوں میں سولہ ایرانی یرغمالی شام سے رہائی پا چکے ہیں۔