.

مسجد اموی کے امام شامی اپوزیشن اتحاد کے نیا سربراہ مقرر

ترکی میں شامی پناہ گزین کیمپ زیر آب، کئی خیمے بہہ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کی حزب مخالف کے نئے اتحاد میں شامل تمام جماعتوں نے متحدہ محاذ کے ابتدائی فارمولے پر دستخط کر لیے ہیں اور دمشق کی مسجد اموی کے سابق امام احمد معاذ الخطیب کو متحدہ اپوزیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔



شام میں تمام اپوزیشن قوتوں کا طویل مذاکرات اور بحث و تمخیص کے بعد نئے سربراہ کا تقرر ملک میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کی طرف اہم پیش رفت ہے۔ اب توقع ہے کہ معاذ الخطیب کی نگرانی میں قائم اپوزیشن بشار الاسد کو اقتدار سے علاحدہ کرنے اور ملک میں عبوری حکومت کے لیے اقدامات کرے گی۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی اپوزیشن کے دھڑوں کا کئی روز سے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں جاری اجلاس اب تک کی طویل مذاکراتی کوشش ہے۔ اجلاس میں ریاض سیف اور سہر الاتاسی کو اتحاد کے نائب صدور جبکہ مصطفیٰ الصیاغ کو سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا ہے۔ اپوزیشن ذرائع کے مطابق متحدہ محاذ میں ایک تیسرے نائب صدر کے لیے بھی بات چیت جاری ہے۔ تیسرا نائب صدر کرد قومی کونسل سے ہو سکتا ہے۔

ترکی میں پناہ گزین کیمپ زیر آب

درایں اثناء ترکی میں طوفانی بارشوں کے باعث شامی پناہ گزینوں کے کیمپ 'بخشین' میں پانی کا ایک ریلہ داخل ہوا ہے جس کےنتیجے میں کئی خیمے بہہ گئے ہیں۔ بخشین کیمپ میں شامی مہاجرین کی تعداد ایک ہزار سے زائد بتائی جاتی ہے۔ ان میں بیشتر عورتیں، بچے اور معمر افراد شامل ہیں۔

شام کی نیشنل کونسل کے زیر انتظام رپورٹر نیٹ ورک کے مطابق موسلا دھار بارش کے باعث بخشین کیمپ کے متاثرین کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ لوگ کئی گھنٹے تک بارش میں کھڑے رہے اور پانی خشک ہونے کے بعد پانی اور کیچڑ سے لتھڑے بستروں پر بیٹھنے پر مجبور تھے۔ ترک حکام نے کیمپ کی صورت حال کی میڈیا کوریج کی اجازت بھی نہیں دی اور نہ ہی انسانی حقوق کے کارکنوں کو پناہ گزینوں کی مدد کے لیے کیمپ میں داخل ہونے دیا گیا۔

دوسری جانب شام میں محاذ جنگ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق درعا میں سرکاری فوج نے باغیوں کے ٹھکانوں پر توپخانے سے گولہ باری کی ہے۔ اِدلب، حسکہ، دمشق میں القدم اور العسالی کالونیوں میں باغیوں اور شامی فوج کے درمیان خون ریز لڑائی ہو رہی ہے۔

پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران دمشق اور دیر الزور کے مقامات پر گولہ باری کے نتیجے میں 72 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ زیادہ ہلاکتیں دمشق کی مضافاتی کالونیوں حرستا اور عربین میں ہوئیں جہاں اسد نواز فوجیوں نے عام شہریوں پر راکٹوں اور مارٹرگنوں سے کئی گھنٹے تک شیلنگ کی۔ دیرالزور میں زور دار دھماکوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں تاہم ان کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکی ہیں۔