.

یاسر عرفات کا سبزی فروش ہم شکل، لوگوں میں فلمی ہیرو کی طرح مقبول

سالم سمیرات چال ڈھال اور لب ولہجے میں ابو عمار کی کاپی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطینی ان دنوں اپنے لیجنڈ لیڈر مرحوم یاسر عرفات کی آٹھویں برسی کی تقریبات منعقد کر رہے ہیں۔ انہی تقریبات کے جلو میں مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ کا ایک سبزی فروش جو کہ ابو عمار [یاسر عرفات کی کنیت] کا ہر اعتبار سے ہم شکل ہے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے رپورٹ کے مطابق رام اللہ میں سبزی اور فروٹ کی ایک چھوٹی دکان کے مالک سالم سمیرات کو قدرت نے یاسر عرفات کے ہم شکل بنایا تو اس نے قدرتی مشابہت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی چال ڈھال، لباس حتیٰ کہ لب ولہجہ بھی یاسر عرفات ہی کا اپنا کر شہریوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔

سالم سمیرات اپنے گاہکوں سے اسی انداز اور لہجے میں بات کرتا ہے جس طرح یاسر عرفات مرحوم عوامی اجتماعات میں عوام سے قومی لہجے میں مخاطب ہوا کرتےتھے۔ دونوں کے صرف الفاظ مختلف ہیں۔ سالم سمیرات اپنے گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے آلو، پیاز اور تربوز کی آوازیں لگاتا ہے جبکہ یاسر عرفات فلسطینیوں کے سیاسی حقوق کے نعرے لگایا کرتے تھے۔



رپورٹ کے مطابق یاسر عرفات کا ہم شکل جب اپنے گاہکوں کی جانب اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتا ہے تو یاسر عرفات کی 'وکٹری' کی یاد تازہ ہوتی ہے اور سالم کی مسکراہٹ کے وقت اس کے کھلتے دانتوں سے ابو عمار کی عوامی جلسوں کے دوران مسکراہٹ کی جھلک کی یاد لوگوں کو دیوانہ بنا دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ جوق درجوق اس کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ نہ صرف اس سے پھل اور سبزیاں خرید کرتے ہیں بلکہ اس سے دیر تک بیٹھے باتیں کرتے اور اپنے مرحوم لیڈر کی یادیں تازہ کرتے ہیں۔



یاسر عرفات کو دنیا سے رخصت ہوئے آٹھ برس بیت چکے ہیں۔ ان کی موت ابھی تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ قانونی اور سیاسی حلقوں میں یہ بحث اپنی جگہ جاری رہے گی لیکن عوامی حلقوں کے لیے انہیں اپنے لیڈر کا ہم شکل مل جانا ہی کافی ہے۔ اس نے اپنی دکان کے اندر جگہ جگہ بڑی دلچسپ قسم کی عبارات بھی تحریر کرا رکھی ہیں ۔۔۔۔ مثلا ’’آپ کو ابو عمار کے ہاں آمد مبارک ہو‘‘ وغیرہ۔ وہ سیب، انگور تربوز، آلو اور پیاز کی پیٹیوں کے درمیان بیٹھے ہوئے اپنے گاہکوں سے اس طرح مخاطب ہوتا ہے جیسے یاسر عرفات کسی اعلٰی سطحی میٹنگ یا جلسے میں اپنے چاہنے والوں کے جھرمٹ میں گھرے ہوئے ان سے بات کر رہے ہوں‘‘۔



واضح رہے کہ کسی سبزی فروش کے لیے اتنی بڑی شہرت حاصل کر لینا ناممکن بات ہے البتہ سالم سمیرات کو قدرت نے کچھ ایسے خدوخال اور چہرے کے نقوش عطا کیے ہیں کہ وہ نہ صرف یاسر عرفات کا ہم شکل ہے بلکہ اس نے ایک فلمی ہیرو جیسی شہرت بھی حاصل کر لی ہے، جس سے اس کی سبزی کی دکان بھی چمک اٹھی ہے۔ اس کی دکان پر صبح سے شام تک لوگوں کا ایک ہجوم رہتا ہے۔ خریداروں کا نہیں بلکہ صرف اس کی ایک جھلک دیکھنے والوں کا بھی تانتا بندھا رہتا ہے۔ لوگ اسے مذاق میں ابو عمار کہتے ہیں تو وہ پھولے نہیں سماتا۔