.

اسرائیلی فوج کے راکٹ باری کے ردعمل میں غزہ پر فضائی حملے

حماس کے عسکری ونگ کی تربیت گاہ پر بمباری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیلی فوج نے منگل کو علی الصباح غزہ کی پٹی میں تین فضائی حملے کیے ہیں اور راکٹ چھوڑنے کی دو جگہوں اوراسلحہ کی ایک مبینہ ذخیرہ گاہ کو نشانہ بنایا ہے۔

فلسطینی سکیورٹی فورسز اور عینی شاہدین نے بتایا کہ اسرائیلی فضائی حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور غزہ کی پٹی کے مغربی علاقے میں غیر آباد جگہوں پر بمباری کی گئی ہے۔

اسرائیلی فوج نے یہ حملے فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے راکٹ حملوں کے ایک روز بعد کیے ہیں اور اس کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے اہداف کو براہ راست نشانہ بنایا ہے۔ذرائع کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے ایک تربیتی کیمپ کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

غزہ سے تعلق رکھنے والے مزاحمت کاروں نے گذشتہ روز اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں لیکن صہیونی ریاست کی جانب سے ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی حکمران حماس کے لیڈروں نے اسلامی جہاد اور دوسرے مزاحمت کار گروپوں کے قائدین سے جنگ بندی برقرار رکھنے کے سلسلہ میں بات کی ہے۔

فلسطینی مزاحمت کاروں نے گذشتہ روز جنوبی اسرائیل کی جانب چھے راکٹ فائر کیے تھے۔ان میں سے ایک،ایک مکان پر جا کر گرا تھا۔اتوار کو غزہ کی پٹی سے جنوبی اسرائیل کی جانب متعدد میزائل فائر کیے گئے تھے۔ان راکٹ حملوں میں آٹھ یہودی زخمی ہوگئے تھے۔

فلسطینیوں کی راکٹ باری کے جواب میں اسرائیلی فوج نے غزہ پر حالیہ فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔ہفتہ اور اتوار کو اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں کے نتیجے میں چھے فلسطینی شہید اور تیس زخمی ہوگئے تھے۔

تین فلسطینی تنظیموں پاپولر فرنٹ برائے آزادیٔ فلسطین ،جمہوری محاذ برائے آزادیٔ فلسطین اور پاپولر مزاحمتی کمیٹیوں نے اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کرنے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔