.

ساتھی اہلکار کی سر عام چٹیا بنانے پر خاتون فوجی کو سزا

'اقدام سے کٹر مذہبی یہودی فوجیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیل خود کو مشرق وسطی کی جدید ریاست سمجھتا ہے لیکن دوسری جانب اس کی فوج آج بھی قدامت پسند دقیانوسی خیالات کی اسیر نظر آتی ہے۔ اس کی عملی مثال اس وقت دیکھنے میں آئی جب فوج میں شامل کٹر مذہبی یہودی سپاہیوں نے خاتون فوجی کو سر عام اپنی دوسری فوجی ہم جولی کی چٹیا کرتے دیکھ کر حکام بالا کو دونوں کے خلاف انضباطی کارروائی کی درخواست دے دی۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق فوجی خاتون ساتھی کی سر عام چٹیا بنانے والی اہلکار کو اس اقدام پر تحریری معافی نامہ داخل کرنا پڑا۔ عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت کے آن لائن ایڈیشن 'وائی نیٹ' نے سزا پانے والے خاتون فوجی کی والدہ کے حوالے سے بتایا کہ میری بیٹی کو سزا کے طور پر پانچ صفحات پر محیط مضمون لکھنے کو دیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری بیٹی پر یہ سزا بہت گراں گزری۔

اخبار کے مطابق خاتون اہلکار کے کمانڈر نے انہیں سرعام ساتھی خاتون کی چٹیا کرنے پر سزا اس لئے سنائی کہ ان کا یہ اقدام اسرائیلی فوج کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ نیز خاتون فوجی کے خلاف ضابطہ فعل سے اسی بیس پر خدمات سرانجام دینے والے کٹر مذہبی یہودی فوجیوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی۔

سزا پانے والی فوجی اہلکار کی والدہ نے مزید کہا کہ میری بیٹی کو ساتھی فوجیوں کے جذبات کا بخوبی اندازہ ہے لیکن چوٹی کرنے کے معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا۔ "ایک طرف فوجیوں کو اپنے دوسرے ساتھیوں کی مدد کا درس دیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب کسی روتے ہوئے ساتھی تو تسلی دینے کے لئے اسے گلے لگانا جرم بنا دیا گیا ہے۔"

اسرائیلی فوجی ترجمان کی یونٹ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ فوج میں خواتین اہلکاروں کے ایک دوسری کی چٹیا بنانے پر پابندی نہیں ہے۔ اس لئے سزا دینے والے مجاز افسر سے غلطی کا ارتکاب ہوا، جسے قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کی نصیحت کرتے ہوئے درست کر دیا گیا۔ فوجی قواعد کے مطابق مرد اور خواتین اہکاروں کے لئے الگ الگ رہائشی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ دیگر قواعد کے علاوہ جسمانی فٹنس ایکسر سائز کے وقت فوجی حیا دار لباس پہننے کے پابند ہیں۔