.

یورپ شامی حزب اختلاف کے نئے اتحاد کو تسلیم کرے معاذ الخطیب

اتحاد کو اسلحہ کے حصول میں مدد ملے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف بر سر پیکار حزب اختلاف کے مختلف گروپوں کے نئے اتحاد کے سربراہ احمد معاذ الخطیب نے یورپ سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کے اتحاد کو تسلیم کرے۔اس سے وہ ایک حکومت کی طرح کام کر سکے گا اور ہتھیار حاصل کر سکے گا۔

معاذ الخطیب نے منگل کو برطانوی خبر رساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میں یورپی ریاستوں سے درخواست کروں گا کہ وہ سیاسی طور پر ہمارے اتحاد کو شامی عوام کا حقیقی نمائندہ تسلیم کریں اور مالی مدد کریں''۔

انھوں نے کہا کہ جب ہمیں سیاسی طور پر تسلیم کر لیا جائے گا تو اس سے نیا اتحاد ایک حکومت کے طور پر کام کرسکے گا اور ہتھیار حاصل کرسکے گا اور اس سے ہمارے مسائل حل ہوسکیں گے۔

عرب لیگ اور چھے عرب ممالک پر مشتمل خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے گذشتہ روز حزب اختلاف کے نئے بلاک کو شامی عوام کے حقیقی نمائندہ کے طور پر تسلیم کر لیا تھا۔ان دونوں تنظیموں نے عالمی برادری سے اپیل کی تھی کہ وہ اس اتحاد کو تسلیم کریں۔

درایں اثناء فرانس نے کہا ہے کہ وہ شامی حزب اختلاف کے نئے اتحاد کی مدد کرے گا۔یہ یقین دہانی فرانسیسی وزیرخارجہ لوراں فابئیس نے قاہرہ میں نئے شامی اتحاد کے لیڈروں سے ملاقات کے دوران کرائی ہے۔مسٹر فابئیس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ متحد ہوگئے ہیں اور یہ بات اہم ہے کہ فرانس ان کی مدد کرے۔تاہم انھوں نے نئے اتحاد کو تسلیم کرنے سے متعلق کچھ نہیں کہا۔

قطر کے دارالحکومت دوحہ میں دوروز پہلے شامی حزب اختلاف کے مختلف گروپوں نے کئی گھنٹے کی مسلسل بات چیت کے بعد نئی قومی کونسل کی تشکیل سے اتفاق کیا تھا اور اعتدال پسند عالم دین احمد معاذ الخطیب کو اس کا سربراہ بنایا گیا تھا۔