.

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کا خفیہ دورہ گولان

شامی فوج کی گولان کی پہاڑیوں پر ایک مرتبہ پھر گولہ باری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کی سرکاری فوج نے بدھ کو علی الصباح اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں کی جانب ایک مرتبہ پھر گولہ باری کی ہے۔

ادھر دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعے کے جلو میں اسرائیلی وزیر اعظم نجمن نیتن یاہو نے بھی گولان کا دورہ کیا ہے۔ مسٹر یاہو کا یہ دورہ انتہائی خفیہ رکھا گیا۔

شام کے ایک انقلابی گروپ کی اطلاع کے مطابق سرکاری فوج نے بئیر عجم اور دوسرے علاقوں کی جانب گولہ باری کی ہے۔تاہم اس سے کسی قسم کے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

گولان کی پہاڑیوں اور اس کے ساتھ واقع شامی علاقے میں گذشتہ ایک ہفتے سے کشیدگی پائی جارہی ہے اور شامی فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کے دوران فائر کیے گئے گولے پہلے بھی اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے پر جاکر گرے ہیں۔اسرائیلی فوج نے سوموار کو گولان کی پہاڑیوں پر شامی فوج کا فائر کیا گیا ایک گولہ گرنے کے بعد شامی علاقے کی جانب براہ راست فائرنگ کی تھی۔

اسرائیلی فوج نے شامی فوج کی موبائل آرٹلری (گشتی توپ خانے) کو براہ راست نشانہ بنایا تھااور اس نے خبردار کیا ہے کہ شام کی جانب سے گولان کی چوٹیوں پر کسی بھی فائر کا سختی سے جواب دیا جائے گا۔

صہیونی فوج نے اتوار کو بھی شامی علاقے کی جانب تموز میزائل فائر کیا تھا لیکن اسے انتباہی فائرنگ کا نام دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ صہیونی فوج نے 1973ء کی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ گولان کی پہاڑیوں سے شامی علاقے کی جانب فائرنگ کی تھی اوراس علاقے میں قریباً تیس سال کے بعد یہ اس کی پہلی فوجی سرگرمی تھی۔

گذشتہ جمعرات کو شام کے سرحدی علاقے میں سرکاری فوج اور باغی جنگجوؤں کے درمیان جاری لڑائی کے دوران فائر کیا گیا ایک مارٹر بم گولان کی پہاڑیوں پر آکر گرا تھا۔یہ بم پھٹ نہیں سکا تھا اور اس سے کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا تھا۔



شام میں گذشتہ بیس ماہ سے جاری خانہ جنگی اب اسرائیل کے زیرقبضہ گولان کی پہاڑیوں کے نزدیک واقع علاقے تک پہنچ چکی ہے اور گذشتہ ایک ہفتے کے دوران اس علاقے سے فائر کیے گئے گولے سرحد پار جا کر گرے ہیں۔تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شامی فوج کے گولے حادثاتی طور پر اسرائیل کے زیرقبضہ علاقے میں جاکر گرے ہیں۔ورنہ شامی فوج اس وقت اندرون ملک الجھی ہوئی ہے اور اس میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ اسرائیل کے ساتھ کوئی نیا جنگی محاذ کھول سکے۔



یاد رہے کہ اسرائیل نے شام کے تزویراتی اہمیت کے حامل علاقے گولان کی چوٹیوں پر 1967ء کی جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔دونوں ممالک نے 1974ء میں یوم کپور کی جنگ کے بعد فائربندی کے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے تھے۔اس کے باوجود دونوں ممالک ٹیکنیکل طور پر حالت جنگ میں ہیں۔اسرائیل نے اس علاقے کو 1981ء میں اپنی ریاست میں ضم کرلیا تھا لیکن عالمی برادری نے اس کے اقدام کو تسلیم نہیں کیا تھا۔

گولان کی پہاڑیوں کے علاقے میں اس وقت بیس ہزار یہودی آبادکار رہ رہے ہیں۔ان میں زیادہ تر انگور کاشت کرتے اور ان سے شراب کشید کرتے ہیں۔ان کے علاوہ اٹھارہ ہزار دروز رہ رہے ہیں جو شامی نژاد ہیں اور اس علاقے کے اصل باشندے ہیں۔