.

شاہ عبداللہ کے حکم پر سعودی عالم دین کی سزا معاف، جیل سے رہا

شیخ یوسف ریاض جیل میں قید کی سزا بھگت رہے تھے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے ممتاز عالم دین شیخ یوسف الاحمد سزا معاف کرنے کا حکم صادر کیا ہے جس کے بعد انہیں دارلحکومت ریاض کی جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔ شیخ یوسف کو امسال اپریل میں ایک مقامی فوجداری عدالت نے قانون اور قومی مفاد کے خلاف سرگرمیوں کی پاداش میں پانچ سال قید اور ایک لاکھ ریال جرمانے کی سزا سنائی تھی۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رہائی کے بعد شیخ یوسف الاحمد کی رہائشگاہ پر انہیں مبارک باد پیش کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ مبارک باد پیش کرنے والوں میں کئی سرکردہ علماء بھی شامل تھے۔ رہائی کے بعد اپنے عزیز و اقارب سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ یوسف الاحمد نے کہا کہ "میں اب دوبارہ معمول کی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاؤں گا۔ میں مشرقی ریجن میں مقیم اپنے والدین سے ملاقات میری پہلی ترجیح ہے کیونکہ وہیں سے مجھے حراست میں لیا گیا تھا۔



رہائی پانے والے سعودی واعظ کے بھائی نائف الاحمد نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے خاندان نے شیخ یوسف کو سزا کے بعد کئی مرتبہ خادم الحرمین الشریفین سے سزا معافی کی درخواست کی۔ جنہوں نے ہماری اپیل منظور کرتے ہوئے ساڑھے چار سال قید کی سزا معاف کر دی ہے جس پر پورا خاندان شاہ عبداللہ کا ممنون ہے۔



خیال رہے کہ سعودی عرب کی ایک فوجداری عدالت نے الشیخ یوسف الاحمد کو 11 اپریل 2012ء کو دو سعودی اور دو مصری باشندوں سمیت پانچ پانچ سال قید کی سزاؤں کا حکم دیا تھا۔ ان ملزمان پر ملک میں اپنے گمراہ نظریات کو فروغ دے کر ملکی مفاد کو نقصان پہنچانے اور ریاست کے اندر ریاست تشکیل دینے کی سرگرمیوں کے الزامات شامل تھے۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا تھا کہ شیخ یوسف الاحمد اور ان کے ساتھی ملک میں گمراہ فرقوں بالخصوص شدت پسند تنظیم القاعدہ کے خیالات کی کھلی حمایت کر رہے ہیں۔ القاعدہ کے تکفیری نظریات کی حمایت قومی مفادات کو نقصان پہنچانے اور ملک میں افراتفری کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔ عدالت انہی سرگرمیوں کی پاداش میں ملزمان کو قید کی سزا دیتی ہے۔