.

غزہ اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے عسکری کمانڈر شہید

الجعبری کو شہید کر کے تل ابیب نے خود پر جہنم کا دروازہ کھول لیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیلی فوج نے بدھ کو غزہ شہر میں ایک کار پر میزائل فائر کیے ہیں جس کے نتیجے میں حماس کے عسکری شعبے عزالدین القسام بریگیڈ کے کمان دار شہید اور ان کا ایک ساتھی زخمی ہو گیا ہے۔

غزہ کی حکمراں حماس کے ترجمان نے اسرائیلی فضائی حملے میں اپنے کمانڈر احمد الجعبری کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ حماس نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ تل ابیب کے ہمارے عسکری جانباز کو شہید کر کے خود پر جہنم کا دروازہ کھول لیا ہے۔

شہید احمد الجعبری کا نام اس وقت ذرائع ابلاغ میں نمایاں طور پر سامنے آیا کہ مصری ثالثی میں فلسطینیی اسیران اور اسرائیلی فوجی گیلاد شالیط کے تبادلے کا معاہدہ روبعمل آیا۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے حماس کے پاس یرغمال اپنے فوجی گیلاد کے بدلے ایک ہزار فلسطینی قیدی رہا کئے۔ شہید الجعبری عزالدین القسام کے وہ کمانڈر تھے جنہوں نے اسرائیلی جنگی قیدی گیلاد شالیط کو مصری حکام کے حوالے کیا۔

اسرائیلی فوج نے ان کی کار پرحملہ فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے راکٹ حملوں کے جواب میں کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی 2009ء میں غزہ پر جارحیت کے بعد وہ حماس کے شہید ہونے والے سب سے سنئیر عہدے دار ہیں۔اسرائیل نے ان کا نام انتہائی مطلوب فلسطینیوں کی فہرست میں شامل کررکھا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق احمد الجعبری غزہ شہر میں اپنی کار پر جا رہے تھے۔ اس کو ایک میزائل سے نشانہ بنایا گیا جس سے کار دھماکے سے تباہ ہو گئی۔ اس سے پہلے مصر کے علاقے جزیرہ نما سیناء سے جنوبی اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے گئے تھے۔

اسرائیلی جنگی طیارے نے غزہ کی پٹی میں منگل کو ایک غیر آباد جگہ پر حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے ایک تربیتی کیمپ کو بھی نشانہ بنایا تھا۔

فلسطینی مزاحمت کاروں نے سوموار کو جنوبی اسرائیل کی جانب چھے راکٹ فائر کیے تھے۔ ان میں سے ایک،ایک مکان پر جا کر گرا تھا۔ اتوار کو غزہ کی پٹی سے جنوبی اسرائیل کی جانب متعدد میزائل فائر کیے گئے تھے۔ان راکٹ حملوں میں آٹھ یہودی زخمی ہو گئے تھے۔

فلسطینیوں کی حالیہ راکٹ باری کے جواب میں اسرائیلی فوج نے غزہ پر فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔ ہفتہ اور اتوار کو اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں کے نتیجے میں چھے فلسطینی شہید اور تیس زخمی ہو گئے تھے۔

غزہ سے تعلق رکھنے والی تین فلسطینی تنظیموں پاپولر فرنٹ برائے آزادیٔ فلسطین، جمہوری محاذ برائے آزادیٔ فلسطین اور پاپولر مزاحمتی کمیٹیوں نے اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کرنے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

تاہم بعض فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے گذشتہ روز اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے لیے تیار ہیں لیکن صہیونی ریاست کی جانب سے ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ حماس کے لیڈروں نے اسلامی جہاد اور دوسرے مزاحمت کار گروپوں کے قائدین سے جنگ بندی برقرار رکھنے کے سلسلہ میں بات کی تھی۔