.

مصر فلسطینیوں پر اسرائیلی حملے برداشت نہیں کرے گا ایف جے پی

فلسطینی صدر کا عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی سب سے منظم سیاسی قوت اخوان المسلمون کے سیاسی بازو آزادی اور انصاف پارٹی (ایف جے پی) نے کہا ہے کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے حملوں کے بعد مصر خاموش نہیں بیٹھے گا جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کے لیے عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایف جے پی نے بدھ کو غزہ شہر پر اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں حماس کے عسکری کمانڈر احمد الجعبری کی شہادت کے بعد جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ عرب اور عالمی برادری فلسطینیوں کا قتل عام رکوانے کے لیے فوری اقدام کریں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ''اسرائیل کو عرب خطے اور خاص طور پر مصر میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے''۔ جماعت نے خبردار کیا ہے کہ ''مصر اب ماضی کی طرح فلسطینیوں کو اسرائیلی جارحیت کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دے گا''۔مصری وزیرخارجہ نے اپنے الگ بیان میں غزہ پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے۔

درایں اثناء فلسطینی صدر محمود عباس نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملوں کے بعد عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ صبر وتحمل سے کام لیں اور کشیدگی کو بڑھاوا دینے سے گریز کریں۔

واضح رہے کہ آزادی اور انصاف پارٹی ہی نے صدر محمد مرسی کو اپنا امیدوار نامزد کیا تھا مگر وہ صدر منتخب ہونے کے بعد جماعت سے لا تعلق ہو گئے تھے۔ وہ صدارتی انتخاب سے قبل فلسطینیوں کے زبردست مؤید رہے تھے اور ان سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ حکومت سنبھالنے کے بعد غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی ختم کر دیں گے اور مصر کی سرحد کے ساتھ واقع رفح بارڈر کراسنگ کو کھول دیں گے لیکن انھوں نے ابھی تک اپنے اس وعدے کو پورا نہیں کیا۔

ادھر مصر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق عرب لیگ نے فلسطین۔اسرائیل بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تل ابیب کے غزہ پر پے در پے حملوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے تنظیم [عرب لیگ] کا اجلاس ہفتے کو طلب کر لیا۔