.

اردن مسلح تصادم میں ایک شخص ہلاک، 12 پولیس اہلکار زخمی

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ اضطراب کا باعث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اردن کے شہر اربد میں مسلح گروپ سے جھڑپ میں ایک شخص جاں بحق جبکہ بارہ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس جھڑپ میں چار حملہ آور بھی زخمی ہوئے جنہیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔



میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلح گروپ کے جنگجوؤں نے گزشتہ شب اربد میں ایک پولیس پارٹی پر حملہ کیا اور پولیس تھانے میں داخلے کی کوشش کی۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور ہلاک اور چار زخمی ہو گئے جبکہ حملہ آوروں کی فائرنگ سے بارہ پولیس اہلکار زخمی ہو گئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔



اربد کے سرکاری میڈیا سینٹر کے مطابق پولیس کارروائی میں پانچ حملہ آور زخمی ہوئے تھے جن میں سے ایک اسپتال پہنچتے ہی دم توڑ گیا۔ دیگر چار زخمیوں اسپتال میں زیر علاج ہیں اور انہیں کسی انتقامی کارروائی کے خدشے کے پیش نظر سخت سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔



قبل ازیں منگل کو اردنی حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ملک بھر میں شدید عوامی ردعمل سامنے آیا ہے۔ پولیس اور مسلح گروپوں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ بتایا جاتا ہے۔ حکومت نے بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 10 سے 53 فیصد یک مشت اضافہ کر دیا تھا۔ عوامی اور سیاسی حلقے اسے عوام پر پٹرول بم حملے سے تعبیر کر رہے ہیں۔