.

اسرائیل نے جنگ میں پہل کی، انجام اس کے ہاتھ میں نہیں حماس

غزہ میں فوجی کارروائیوں میں اضافہ کریں گے: یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کا کہنا ہے کہ غزہ کے خلاف جارحیت کا آغاز تو اسرائیل نے کیا لیکن اب اس جنگ کو ختم کرنے کا فیصلہ تل ابیب کے اختیار میں نہیں رہا۔ فلسطینی قومی اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی کوارڈی نیشن فی الفور ختم کیا جائے۔ عرب اور اسلامی ممالک مصر کے نقش قدم پر چلیں۔ یاد رہے کہ القسام بریگیڈ کے کمانڈر احمد الجعبری کی اسرائیلی میزائل حملے میں شہادت کے بعد بطور احتجاج قاہرہ نے تل ابیب سے اپنے سفیر کو فوری طور پر واپس بلا لیا تھا۔

ان خیالات کا اظہار حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ابو زہری کا کہنا تھا کہ اسرائیل، غزہ کے خلاف اپنی جارحیت کو سیاسی مقاصد کے لئے کرنا چاہتا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ کھلی جنگ میں آہستہ آہستہ تیزی آئے گی۔ 'ہم قابض اسرائیلیوں کے دھوکے میں مزید نہیں آئیں گے کیونکہ موجودہ حالات میں جنگ بندی کا ذکر دراصل غزہ پر اسرائیلی چڑھائی کو جاری رکھنے میں ڈھال کا کام کرے گا۔'

حماس نے ان خیالات کا اظہار اس اسرائیلی بیان کے بعد کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اپنے دفاع کے لئے اسرائیل 'کسی بھی ضروری کارروائی' سے گریز نہیں کرے گا۔ وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جمعرات کے روز ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ اپنے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اسرائیل، غزہ کی پٹی میں اپنی فوجی کارروائی کو مزید بڑھائے گا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق بدھ کی رات سے ابتک اسرائیل کے 90 فضائی حملوں میں 15 فلسطینی شہید اور 150 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ 'دھویں کے بادل' کے کوڈ نام سے جاری اسرائیلی کارروائی کے دوسرے روز جنوبی اسرائیل میں ایک رہائشی عمارت پر غزہ سے داغے گئے گراڈ میزائل گرنے سے تین اسرائیلی ہلاک ہو گئے۔

نیتن یاہو نے دعوی کیا کہ اسرائیلی ہوا بازوں نے ایرانی ساختہ 'فجر' میزائلوں کو بڑی تعداد میں تباہ کیا ہے۔ یہ میزائل 75 کلومیٹر تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ادھر حماس کے ذرائع نے 'العربیہ' سے گفتگو کرتے ہوئے دعوی کیا ہے تل ابیب نے یورپی ثالثوں کے ذریعے دوطرفہ جنگ بندی کی تجویز پیش کی ہے۔ اس پیشکش کے جواب میں حماس نے یورپی ثالثوں کو پیغام بھجوایا ہے کہ جنگ بندی کی تجویز پر مصر سے تبادلہ خیال کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق مشرق وسطی میں قیام امن کے لئے یورپی مندوب رابرٹ سیری نے اسرائیلی تجویز حماس کو پیش کی تھی، جس کے جواب میں اسے مصر کو ریفر کر دیا گیا ہے۔

درایں اثنا پولٹ بیورو حماس کے سربراہ خالد مشعل نے فلسطینی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ کی جنگ کا ہوشیاری اور دلیر دلی کے ساتھ سامنا کریں کیونکہ اسرائیل کے ساتھ مدبھڑ طول پکڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدھ سے جاری اسرائیلی آپریشن کے نتائج دیکھ کر یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے تل ابیب، اہالیاں غزہ کے حوصلے پست نہیں کر سکتا۔

سوڈانی دارلحکومت خرطوم میں سوڈانی تحریک اسلامی کی آٹھویں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خالد مشعل نے کہا کمزور دشمن غزہ کو زیر نگین نہیں کر سکتا۔ ہم انہیں مار بھگائیں گے کیونکہ غاصب اسرائیلی فلسطین کے اصل وارثوں کو دھمکا نہیں سکتا۔

خالد مشعل کا کہنا تھا کہ غزہ پر فوجی حملے سے دراصل اسرائیل؛ مصر، عرب اور مسلم حکمرانوں کا امتحان لینا چاہتا ہے کہ کیا آج کی قیادت ماضی کی طرح اس معاملے کو دیکھے گی یا پھر موجودہ قیادت اسرائیلی جارحیت کا نئی سوچ اور قابل اعتبار عملی اقدامات سے اس کا مقابلہ کرتی ہے۔

"وہ دور لد گیا جب اسرائیل، فلسطینیوں پر مظالم سے انہیں رخت سفر باندھنے پر مجبور کرتا تھا۔ جبری بے دخلی کا دو ختم ہو گیا۔ اب اسرائیل کے خاتمے کا وقت آن پہنچا ہے۔" انہوں نے اہل فلسطین اور غزہ سے متحدہ ہو کر اسرائیل کا مقابلہ کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر تمام جماعتوں نے مل کر اسرائیل کو جواب دینے کا قصد کر لیا تو ایسا کر کے آپ خود سے بڑی نیکی کریں گے۔