.

تل ابیب پہلی مرتبہ القسام کے فجر 5 میزائلوں کے نشانہ پر

چینی میزائل کا نقل ایران میں تیار ہو رہی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ نے جمعرات کے روز اسرائیلی دارلحکومت کے قلب کو نشانہ بنانے کے لئے پہلی مرتبہ 'فجر 5' طرز کے میزائل استعمال کئے ہیں۔

'فجر 5' ایک جدید ہتھیار ہے جسے فلسطینی پہلی مرتبہ اسرائیل کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔ یہ میزائل دراصل چینی میزائل 'WS1' کی ایرانی نقل ہے۔ ایران نے 80 کی دہائی میں یہ میزائل چین سے خریدے تھے۔ سن 1992ء سے تہران نے انہیں مقامی طور پر تیار کرنا شروع کر دیا تھا۔

چھے میٹر لمبا زمین سے زمین تک مار کرنے والا 'فجر 5'، 75 کلومیٹر، یعنی تل ابیب کے مرکز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

میزائل کے موبائل لانچنگ پیڈ سے ہر آٹھ سیکنڈ کے وقفے سے چار میزائل داغے جا سکتے ہیں۔ اس خصوصیت کی وجہ سے حماس کے جنگجوؤں کو بڑا چیلنج درپیش ہو گا کیونکہ اسرائیلی لڑاکا طیاروں کے سامنے انہیں چھپانا مشکل ہو گا۔

عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت نے امسال فروری میں اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ حماس نے تل ابیب کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والے 'فجر 5' میزائل حاصل کر لئے ہیں۔

اسرائیل نے اس خبر کے بعد مارچ میں 'دل پر چوٹ' کے کوڈ نام سے مشقوں میں 'فجر 5' میزائل کو روکنے کی صلاحیت کو آزمایا تاکہ فلسطینیوں کی جانب دارلحکومت پر داغے جانے والے ان میزائلوں کو ناکارہ بنانے کی اسرائیلی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔