.

سوشل میڈیا بی بی سی کی اسرائیل نوازی اور جانبداری پر تنقید

غزہ میں صحافی کے شیر خوار بیٹے کی اسرائیلی حملے میں شہادت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
غزہ پر اسرائیلی فوج کی جارحیت میں ایک صحافی کے گیارہ ماہ کے شیر خوار بچے کی شہادت کی تصویر منظر عام پر آنے کے بعد آن لائن تعزیتی پیغامات کا تانتا بندھ گیا ہے۔

بی بی سی سے ویڈیو ایڈیٹر کے طور پر وابستہ جہاد مشراوی کے بیٹے عمر مشراوی غزہ پر بدھ کی سہ پہر اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ العربیہ کے نامہ نگاروں کی اطلاع کے مطابق جمعہ تک اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملوں میں سولہ فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ ان میں چار بچے شامل ہیں۔

دنیا جہاں میں رونما ہونے والے معمولی معمولی واقعات کی خبریں دینے والے برطانوی خبر رساں ادارے نے اپنے ایک کارکن کے بیٹے کی اندوہناک شہادت کی خبر بالکل سرسری انداز میں دی تھی۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہو سکتی تھی کہ اس کے قاتل صہیونی فوج تھی لیکن جونہی غم سے نڈھال جہاد مشراوی کی اپنے بیٹے کی لاش اٹھائے ہوئے تصویر آن لائن عام ہوئی تو سوشل میڈیا پر تعزیتی اور تنقیدی تحریروں اور بیانات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا۔

بی بی سی کی جانب سے اپنے کارکن کے بیٹے کی خبر کو نظر انداز کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا ہے اور اسرائیلی فوج کی غزہ پر حالیہ جارحیت کی بھرپور مذمت کی جا رہی ہے۔

الیکٹرانک انتفاضہ بلاگر پر ایک مضمون نگار نے لکھا ہے کہ ''جب بی بی سی اسرائیلی فوج کے ہاتھوں اپنے ہی کیمرا مین کے بچے کے قتل کو نظر انداز کرے گی تو دوسرے فلسطینیوں کے بارے میں اس سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟'' اس مضمون نگار نے الزام عاید کیا ہے کہ بی بی سی نے بدھ کی رات کے خبر ناموں میں اسرائیلی فضائی حملوں میں فلسطینیوں کی شہادت کو یکسر نظر انداز کیا تھا۔ اس سے اس کی غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کا ایک مرتبہ پھر پول کھل گیا ہے۔

درایں اثناء مشرق وسطیٰ کی ایک نیوز سائٹ آل بوابہ نے بی بی سی کی ویب سائٹ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ اس برطانوی نشریاتی ادارے نے آن لائن یہ اطلاع دی تھی کہ اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ کے جنگجوؤں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس طرح اس نے گیارہ ماہ کے شیر خوار عمر سمیت دوسرے بچوں کی شہادت کا ابتدائی طور پر کوئی حوالہ نہیں دیا تھا۔

لیکن بی بی سی کے اندرونی حلقوں میں فوری طور پر عمر مشراوی کی شہادت کا پتا چل گیا تھا اور یہ خبر ادارے کے تمام عملے تک پہنچ گئی تھی۔ برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق بی بی سی ورلڈ کے ایڈیٹر جان ولیمز نے اپنے تمام ساتھی کارکنان کو ایک میمو کے ذریعے شیر خوار بچے کی اسرائیلی حملے میں موت سے متعلق اطلاع دی تھی اور یہ کہا تھا کہ ہم جہاد مشراوی اور غزہ میں موجود باقی ٹیم کے ساتھ ہیں۔

بی بی سی کی نیوز ویب سائٹ پر جمعرات کو ایک مضمون پوسٹ کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ جہاد مشراوی کی ایک ویڈیو منسلک کی گئی تھی اور اس کا یہ کیپشن لکھا تھا: ''میرے بیٹے نے ایسا کیا کیا تھا کہ اس کو اس طر ح موت کی نیند سلا دیا گیا؟''

بی بی سی کے مڈل ایسٹ میں بیورو چیف پال ڈاناہار کی اطلاع کے مطابق ''بدھ کو غزہ شہر پر جہاد مشراوی کے مکان پر ایک اسرائیلی گولہ گرا تھا جس کے نتیجے میں ان کا بیٹا شہید اور خواہر نسبتی اور ایک بھائی زخمی ہو گیا تھا''۔ ان کے بہ قول جب اسرائیل نے یہ بمباری کی تھی اس وقت جہاد کے مکان کے نواحی علاقے میں کوئی لڑائی نہیں ہو رہی تھی۔