.

غزہ پر اسرائیلی حملے جاری، حماس پر فائر بندی کی خلاف ورزی کا الزام

مصری وزیر اعظم کی موجودگی میں دو فلسطینی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیلی فوج کے غزہ پر تازہ حملوں میں دو فلسطینی شہید ہو گئے ہیں جبکہ ایک اسرائیلی عہدے دار نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس پر الزام عاید کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے مصری وزیر اعظم ہشام قندیل کے غزہ شہر کے مختصر دورے کے موقع پر عارضی فائربندی کا احترام نہیں کیا اور اس دوران راکٹ حملے جاری رکھے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ترجمان عفیر جینڈل مین نے ایک بیان میں کہا کہ ''اسرائیل نے مصری وزیر اعظم کے دورے کے موقع پر جمعہ کو تین گھنٹے کے لیے غزہ میں ہر طرح کی جارحانہ کارروائیاں روکنے سے اتفاق کیا تھا''۔

اس عہدے دار کے بہ قول ''اسرائیل نے مصر کی درخواست پر یہ اقدام کیا تھا لیکن اس کی شرط یہ تھی کہ غزہ کی پٹی سے اسرائیل کی جانب کوئی فائر نہیں کیا جائے گا''۔

تاہم فلسطینی سکیورٹی ذرائع کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے مصری وزیر اعظم کی غزہ میں موجودگی کے دوران علاقے کے شمال کی جانب ایک فضائی حملہ کیا ہے اور اس میں دو فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کے نمائندے نے بھی اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی جنگی طیارے نے ایک فضائی حملے میں حماس کے عسکری کمانڈر محمد سنوار کے مکان کو نشانہ بنایا ہے۔ تاہم سنوار اور ان کے خاندان کے افراد گھر میں موجود نہیں تھے جس کی وجہ سے ان کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ہشام قندیل نے غزہ کے شفاء اسپتال میں اسرائیلی جارحیت میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی عیادت کی اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''مصر، اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی اور اس کی جارحیت رکوانے کے لیے کوششوں کو تیز کرے گا''۔

درایں اثناء جرمن چانسلر اینجیلا مرکل نے بھی جمعہ کو ایک بیان میں مصر پر زور دیا ہے کہ وہ غزہ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے لیکن انھوں نے اسرائیل کی جارحیت کو رکوانے کے حوالے سے کچھ نہیں کہا۔

اسرائیل کے جنگی طیاروں نے جمعہ کی صبح غزہ کی پٹی پر کئی فضائی حملے کیے ہیں اور غزہ شہر میں بھی بعض اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔حماس کے تحت وزارت داخلہ کے ترجمان اسلام شاہوان نے ایک بیان میں کہا کہ ''اسرائیلی جنگی طیاروں نے جمعرات کی شب سے جمعہ کی صبح تک ایک سو تیس حملے کیے تھے۔غزہ کے نواحی علاقے طل الہوا میں ایک حملےمیں وزارت داخلہ کی ایک عمارت تباہ ہو گئی ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے تازہ حملوں میں مزاحمتی تنظیموں کی تربیت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ حماس کی ایمرجنسی سروسز کے ترجمان اعظم ابو سلمیہ کے مطابق اسرائیل کے فضائی حملوں میں اب تک بیس سے زیادہ فلسطینی شہید اور دو سو پینتیس زخمی ہوئے ہیں۔شہید اور زخمیوں میں متعدد بچے بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے بدھ کی سہ پہر کے بعد چار سو چھیاسٹھ فضائی حملے کیے ہیں۔اسرائیل نے غزہ پر ان حملوں کو ''آپریشن پلر آف ڈیفنس'' (آپریشن دفاع کا ستون) کانام دیا ہے۔ اس کے آغاز میں حماس کے عسکری شعبے کے سربراہ احمد الجعبری شہید ہو گئے تھے۔ غزہ کی پٹی سے اسرائیل کی جانب دو سو اسی راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔جمعرات کو راکٹ حملوں میں تین یہودی ہلاک ہو گئے تھے۔