.

برطانیہ شامی اتحاد کو تسلیم کرنے سے قبل یقین دہانیوں کا خواہاں

ولیم ہیگ کی شامی اپوزیشن کے عہدیداروں سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
برطانیہ نے شامی اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل قومی اتحاد ملک کی نمائندہ قیادت تسلیم کرنے سے قبل اتحاد کے اغراض ومقاصد اور اس کے سیاسی پروگرام سے متعل مزید یقین دہانیاں چاہی ہیں۔

شامی مہمانوں کو ملنے سے پہلے میڈیا سے بات کرتے ہوئے برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا کہ اپوزیشن الائنس کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے سے قبل بہتر ہو گا کہ ہم شامی اتحاد کی اچھی طرح چھان کھٹک کر لیں‘‘۔



برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے مسٹر ہیگ نے بتایا کہ ہمیں اپوزیشن قیادت کو صدر بشار الاسد کی جگہ شامی عوام کا نمائندہ قیادت تسلیم کرنے سے پہلے ان کے منصوبے جاننا ضروری ہے۔ اتحاد میں کون لوگ کن عہدوں پر فائز ہیں؟ آیا اس میں کُردوں کو مناسب نمائندگی دی گئی ہے یا نہیں۔ نیز قومی اتحاد کو شام کے اندر کتنی عوامی حمایت حاصل ہے؟۔



شامی باغیوں کو اسلحہ فراہمی سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ صدر اسد کا زور توڑنے کے لئے انقلابیوں کو اسلحہ فراہمی کے بارے میں ہم نے اپنی عسکری قیادت سے صلاح مشورہ کیا تھا۔ فی الحال برطانیہ باغیوں کو مہلک اسلحہ کی فراہمی کا فیصلہ نہیں کر سکا۔



ایک سوال کے جواب میں ولیم ہیگ نے کہا برطانیہ چند دنوں تک شامی قومی اتحاد کو تسلیم کر لے گا۔ بعد ازاں انہوں نے دورے پر آئے شامی اپوزیشن اتحاد کے رہ نماؤں سے ملاقات کی۔ اپوزیشن کا وفد آج [ہفتے] کو فرانس کے دورے پر پیرس پہنچے گا جہاں اس کی ملاقات صدر فرانسو اولاند سے ہو گی۔

خیال رہے کہ ایک ہفتہ قبل تشکیل پانے والے شام کے قومی اتحاد کو کئی ملکوں کی حمایت حاصل ہو گئی ہے تاہم امریکا اور مغربی ممالک فی الوقت شامی اپوزیشن کی موجودہ قیادت کو بشار الاسد کی جگہ اتھارٹی تسلیم کرنے میں تذبذب کا شکار ہیں۔