.

عیسائی نمائندوں کا مصری دستور ساز کمیشن کے بائیکاٹ کا اعلان

خواتین اور شخصی آزادیوں کی ناکافی ضمانت کے بعد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں عیسائیوں کے تین نمائندہ کلیساؤں نے ملک میں نئے آئین کی تدوین کے لیے کام کرنے والی کمیٹی کا بائیکاٹ کر دیا ہے جس کے بعد دستور کو جلد مدون کرنے کی کوشش ایک مرتبہ پھر تعطل کا شکار ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ نمائندگان کلیسا نے آئین ساز کونسل کا بائیکاٹ قبطی پادری الانبا تواضروس دوئم کی تقریب حلف کے موقع پر کیا ہے تاکہ حکومت پر اپنے مطالبات کی منطوری کے لئے دباؤ مزید بڑھایا جائے۔



العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دستوری کمیٹی میں شامل مصری آرتھوڈوکس چرچ نمائندہ خاتون رکن جارجیٹ قللینی نے بتایا کہ مصر کے تین کلیساؤں آرتھوڈوکس، انجیلی اور کیتھولک نے متفقہ طور پر بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ بہ قول جارجیٹ قللینی کلیساؤں نے آئین میں خواتین کے حقوق اور شخصی آزادیوں کو کم سے کم کرنے کوششوں پر بطور احتجاج کمیٹی سے علاحدگی اختیار کی ہے۔ عالمی سطح پر خواتین کو جو حقوق حاصل ہیں، زیر تدوین مصری دستور میں وہ حقوق انہیں نہیں دیے گئے ہیں۔ مسز جارجیٹ کا کہنا تھا کہ مصر صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا بھی وطن ہے۔ لہٰذا یہاں جو بھی آئین بنایا جائے گا اس میں تمام طبقات کو پوری پوری نمائندگی حاصل ہونی چاہیے۔



انہوں نے واضح کیا کہ عیسائی اس بات پر معترض نہیں کہ آئین میں اسلامی شریعت کو بنیادی مآخذ کیوں بنایا جا رہا ہے اور نہ ہی ہمیں دستور کے اسلامی اصولوں کے مطابق ہونے پر کوئی اعتراض ہے۔ مسیحی رہ نما نے کہا کہ ہمارے نمائندوں نے آئین ساز کمیشن کے کئی اجلاسوں میں شرکت کی۔ انہوں نے آئین میں مناسب ترامیم لانے اور خواتین اور شخصی آزدادیوں کو یقینی بنانے کی مقدور بھر کوشش کی لیکن اس کے برعکس آئین کی دفعہ 2 پر تمام طبقات بالخصوص قبطیوں کو سخت اعتراض تھا۔ ہماری شکایات کا ازالہ نہیں کیا گیا جس کے بعد ہمارے نمائندے کمیٹی سے الگ ہو گئے۔



خیال رہے کہ مصر میں پچھلے ایک سال سے آئین سازی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اعتراضات کی بناء پر تین دفعہ آئین ساز کمیٹی تحلیل کر کے اس کی تشکیل نو کی جا چکی ہے تاہم اس کے باوجود آئین سازی کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ قبطیوں کے بائیکاٹ کے بعد دستور کی تدوین کا عمل مزید متاثر ہو سکتا ہے۔