.

فلسطینیوں کا غزہ پر اسرائیل کا اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ

اسرائیلی فوج کے تازہ حملوں میں مزید 11 فلسطینی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطینی مزاحمت کاروں نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کا ایک اپاچی ہیلی کاپٹر مارگرانے کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے تل ابیب کی جانب طویل فاصلے تک مارکرنے والا ایک میزائل فائر کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے فوری طور پر غزہ کی پٹی میں اپنا اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کی تصدیق نہیں کی۔

اسرائیلی فوج نے غزہ کی جانب سے فائر کیا گیا میزائل کو اپنے دفاعی نظام کے ذریعے ناکارہ بنا دیا اور اس کا ملبہ ایک کار پر گرا ہے جس کے نتیجے میں اس کار کو آگ لگ گئی۔تاہم اس کا ڈرائیور زخمی نہیں ہوا۔

اسرائیلی فوج کے جنگی طیاروں نے غزہ شہر اور دوسرے علاقوں پر جارحانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اتوار کو غزہ شہر کے ایک رہائشی علاقے میں ایک دو منزلہ عمارت پر میزائل فائر کیا ہے جس کے نتیجے میں عمارت مکمل تباہ ہو گئی اور گیارہ فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔

غزہ پر اسرائیلی فوج کی گذشتہ پانچ روز سے جاری جارحیت میں کسی ایک واقعہ میں یہ سب سے زیادہ جانی نقصان ہے۔فلسطینی ذرائع کے مطابق غزہ کے علاقے ناصر میں اسرائیلی فوج نے الدلو خاندان کے مکان کو میزائل سے نشانہ بنایا جس سے وہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔

غزہ کے محکمہ صحت کے ایک اہلکار اشرف الخضریٰ نے بتایا کہ شہید ہونے والوں میں ایک اسی سالہ خاتون سمیت پانچ خواتین ،چار کم سن بچے اور دو مرد شامل ہیں۔ امدادی کارکنان نے ملبے سے ایک پانچ سالہ بچے سمیت سمیت تمام لاشیں نکال کر غزہ کے الشفا اسپتال میں منتقل کر دی ہیں۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ فضائی حملے میں ایک مزاحمتی گروپ اسلامی جہاد کے راکٹ حملوں کے ایک مبینہ ماسٹر مائنڈ کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن صہیونی فوج کے دیگرے جھوٹے دعووں کی طرح اس دعوے کی بھی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں جبکہ اشرف الخضریٰ کا کہنا ہے کہ شہید ہونے والے دونوں فلسطینی عام شہری تھے۔

اسرائیلی فوج کےاس میزائل حملے میں متعدد قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور زخمی ہونے والے بچوں اور خواتین کو ایمبولینس گاڑیوں کے ذریعے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج غزہ پر زمینی چڑھائی بھی کر رہی ہے اور اس کے توپخانے اور پیادہ دستوں نے علاقے کا مکمل گھیراؤ کر لیا ہے اور وہ بڑے زمینی حملے کے لیے تیار ہیں۔

گذشتہ بدھ سے اسرائیلی فوج کے غزہ کی پٹی پر جاری فضائی حملوں میں اب تک چھیاسٹھ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کے جوابی راکٹ حملوں میں تین یہودی مارے گئے ہیں۔

اسرائیل کے جنگ پسند قائدین اور صہیونی فوج یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ وہ حملوں میں شہری اہداف کو نشانہ نہیں بنا رہے ہیں اور اس وجہ سے ان کا کم سے کم جانی نقصان ہو رہا ہے بلکہ وہ الٹا فلسطینیوں کو شہری ہلاکتوں کا مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ فلسطنی مزاحمت کار مساجد اور شہری آبادیوں میں چھپے ہوئے ہیں اور ان مقامات کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ صہیونی فوج فلسطینی مزاحمت کاروں کو نشاندہی کے بعد نشانہ بنا رہی ہے مگر غزہ میں موجود صحافیوں اور غیر سرکاری اداروں سے وابستہ کارکنان کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج کے جنگی طیارے بلاتخصیص شہری آبادی کو نشانہ بنا رہے ہیں اور عام شہریوں ہی کا جانی اور مالی نقصان ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ اتوار کو اسرائیلی طیاروں نے حماس کے وابستگان کے پندرہ، بیس مکانوں پر بمباری کی ہے اور ان میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہی نشانہ بنے ہیں۔ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے فلسطینی مزاحمتی کاروں کی کمر توڑنے کے دعوے کر رہی ہے جبکہ فلسطینی جنگجوؤں نے اسرائیل کی جانب راکٹ حملوں کا بدستور سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔