.

لاکھوں ہیکروں کے اسرائیلی حکومت کی ویب سائٹس پر حملے

غزہ پر بمباری کا ردعمل، اسرائیل کے خلاف سائبر جنگ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیلی فوج کے گذشتہ بدھ کو غزہ کی پٹی پر حملوں کے آغاز بعد سے چار کروڑ چالیس لاکھ سے زیادہ مرتبہ صہیونی ریاست کی سرکاری ویب سائٹس کو ہیک کرنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔

صہیونی وزیر خزانہ یووال اسٹینز نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ان میں سے صرف ایک ویب سائٹ کو ہیک کرنے کی کوشش کامیاب ہوسکی ہے اور اس کو بھی دس منٹ کے بعد دوبارہ بحال کر دیا گیا تھا۔

نامعلوم ہیکروں کے گروپ اسرائیلی صدر، وزیر اعظم، وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کی ویب سائٹس کو خاص طور پر نشانہ بنا رہے ہیں اور ان پر روزانہ لاکھوں کی تعداد میں حملے کر رہے ہیں۔ ایک اسرائیلی ترجمان کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر حملے اسرائیل اور فلسطینی علاقوں سے ہی کیے جا رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر خزانہ کے بہ قول ''ان کی وزارت کا کمپیوٹر ڈویژن سائبر حملوں کو بلاک کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ ہم حالیہ برسوں میں کمپیوٹر کے دفاعی نظام کی تیاری پر لگائی گئی سرمایہ کاری کے ثمرات سے اب لطف اٹھا رہے ہیں''۔

مسٹر اسٹنینز نے اپنی وزارت کو ہدایت کی ہے کہ وہ سرکاری ویب سائٹس پر حملوں کو ناکارہ بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرے۔ ایک نامعلوم ہیکر گروپ نے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے جارحانہ حملوں کے ردعمل میں تین روز پہلے صہیونی حکومت کی ویب سائٹس پر حملے شروع کیے تھے اور اس نے متعدد اسرائیلی ویب سائٹس کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

گلوبل پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس نامعلوم گروپ نے اسرائیلی فوج، وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے علاوہ سکیورٹی اور مالیاتی اداروں کی ویب سائٹس کا حلیہ بگاڑنے اور انھیں تباہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ غزہ شہر میں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے محصور فلسطینیوں کی انٹرنیٹ تک رسائی نہیں رہی ہے لیکن ہیکروں کے اس گروپ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر انھیں ہدایت کی تھی کہ وہ ان سے رابطے میں رہیں اور وہ فون ہونے کی صورت میں اس ویب سائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں:

http://pastebin.com/6dYQruHu”

اس گروپ نے ایک سائٹ پر اپنا پیغام بھی پوسٹ کیا تھا جس میں کہا کہ انھوں نے اسرائیل کی سکیورٹی اور نگرانی کی ایک اہم ویب سائٹ کو ناکارہ کر دیا ہے اور جب تک بزدل صہیونی ریاست بے گناہ شہریوں پر حملے جاری رکھتی ہے تو وہ بھی اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔ اسرائیلی وزیر خزانہ نے بھی ایک ویب سائٹ کے ناکارہ ہونے کا اعتراف کیا ہے۔