.

اسرائیلی سفیر حماس سے مذاکرات سے متعلق ٹویٹ سے منحرف

''اگر وہ جنگ بندی کریں تو بات چیت کو تیار ہیں''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا میں متعین اسرائیلی سفیر اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اسرائیل کی حماس کے ساتھ مذاکرات سے متعلق تحریر سے منحرف ہوگئے ہیں

واشنگٹن میں متعین اسرائیلی سفیر مائیکل اورن نے اتوار کو اپنے عملے پر اپنے ذاتی ٹویٹر اکاؤنٹ پر حماس سے مذاکرات سے متعلق ٹویٹ پوسٹ کرنے کا الزام عاید کیا تھا۔اس تحریر کو سی این این سے ان کے انٹرویو سے اخذ کیا گیا ہے۔اس میں انھوں نے کہا تھا کہ ''حماس اگر ہم پر فائرنگ بند کردے تو اس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو تیار ہیں''۔

سفیر کا یہ بیان اسرائیل کے حماس سے متعلق حالیہ موقف کے بالکل برعکس تھا کیونکہ اسرائیلی قیادت حماس کو ایک جنگجو گروپ قرار دیتی چلی آرہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اس کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گی۔

مائیکل اورن کے ٹویٹ کو حذف کردیا گیا ہے اور اس کے بعد سے وضاحتی بیانات جاری کیے جارہے ہیں۔ درست ٹویٹ یہ پوسٹ کی گئی ہے:''میرے سی این این سے انٹرویو سے متعلق اس سے پہلے کی ٹویٹ عملے کے ایک رکن نے غلطی سے پوسٹ کردی تھی''۔

اس صہیونی سفیر نے وضاحتی ٹویٹ میں لکھا ہے کہ ''میں خود سے منسوب اس ٹویٹ کی سختی سے تردید کرتا ہوں۔حماس ایک دہشت گرد تنظیم ہے جو اسرائیل کو تباہ اور یہودیوں کو ہلاک کرنا چاہتی ہے''۔حماس امن کی شراکت دار نہیں ہے۔

اسرائیلی سفیر نے سی این این کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''عوام ،حکومت اور ریاست اسرائیل اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مل بیٹھنے اور مذاکرات کو تیار ہیں لیکن اگر وہ بھی ہمارے ساتھ بیٹھنے اور مذاکرات کو تیار ہوں تو۔وہ ہم پر فائرنگ کا سلسلہ بند کردیں۔ہر چیز مذاکرات کی میز پر موجود ہے۔ہمیں تنازعے کے دوریاستی حل پر دستخط کرنا ہوں گے اور ہم نے اس کا عزم کررکھا ہے''۔