.

حلب کے اسلام پسندوں نے نئی شامی قومی کونسل مسترد کر دی

ہم شام میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتے ہیں: ترجمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
شام کے شمالی صوبہ حلب میں صدر بشار الاسد کی فوج کے خلاف بر سر پیکار اسلامی جنگجوؤں نے حزب اختلاف کے نئے اتحاد کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ شام میں اسلامی ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔

حلب شہر اور صوبہ میں سرکاری فوج کے خلاف مسلح جدوجہد کرنے والے گروپ کے ترجمان نے سوموار کو انٹرنیٹ پر جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ''ہم متفقہ طور پر قومی اتحاد کے سازشی منصوبے کو مسترد کرتے ہیں اور شام میں اتفاق رائے سے اسلامی ریاست کے قیام کا اعلان کرتے ہیں''۔

ترجمان نے کہا کہ ''ہم اپنی سر زمین پر کسی بھی فریق کی جانب سے مسلط کیے جانے والے بیرونی اتحادوں یا کونسلوں کو مسترد کرتے ہیں''۔اس ویڈیو میں ایک نامعلوم مقرر ایک لمبی کانفرنس میز کے سرے پر بیٹھا ہے اور اس کے ساتھ تیس اور افراد بھی بیٹھے ہوئے ہیں اور دیوار پر سیاہ رنگ کا اسلامی پرچم لہرا رہا ہے۔

اس ترجمان نے بتایا کہ ان کے مشترکہ بیان پر چودہ مسلح گروپوں نے دستخط کیے ہیں۔ان میں النصرۃ محاذ ،احرار الشام اور لواء التوحید شامل ہیں۔اس ویڈیو میں ایک اور شخص قرآن مجید کواٹھائے یہ مطالبہ کررہا ہے کہ اس کتاب کو ملک کا آئین بنایا جائے۔

حلب میں سرکاری فوج کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پر مشتمل سب سے بڑے مسلح گروپ جیش الحر (آزاد شامی فوج) کے کمانڈر عبدالجبار العقیدی نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''یہ بیان صوبے میں تمام باغی گروپوں کی رائے کا نمائندہ نہیں ہے''۔

شامی فوج کے سابق کرنل نے کہا کہ ''یہ گروپ برسرزمین متعدد عسکری دھڑوں کی نمائندگی کرتے ہیں لیکن حلب میں تمام فوجی قوتیں اس سے متفق نہیں ہیں''۔انھوں نے کہا کہ فوجی کونسل نے قومی اتحاد کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے اور وہ ان کے ساتھ تعاون کررہی ہے۔

واضح رہےکہ حزب اختلاف کے نئے شامی قومی اتحاد کے صدر دفاتر قاہرہ میں قائم کیے جائیں گے۔اس بلاک کے سربراہ احمد معاذ الخطیب نے مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مینا' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں عربوں کے علاوہ بین الاقوامی حمایت حاصل ہے۔

مصری وزیرخارجہ محمد کامل عمرو نے ان سے ملاقات کے بعد کہا کہ مصر آیندہ مرحلے میں اس اتحاد کو کسی بھی قسم کی مدد دینے کو تیار ہے۔شامی قومی اتحاد گذشتہ ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کئی گھنٹے کی مسلسل بات چیت کے بعد تشکیل پایا تھا۔اس کو اب تک عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے علاوہ ترکی اور فرانس نے شامی عوام کے قانونی نمائندہ کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

ادھر شام کے ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع علاقے میں باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے جبکہ باغیوں نے حلب میں کئی روز کی جھڑپوں کے بعد ایک بڑے فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔باغیوں نے سرکاری فوج کے خلاف کارروائی میں پانچ ٹینک ،مارٹر گولے اور میزائل استعمال کیے ہیں۔باغی جنگجوؤں کی علاقے میں کردوں کے ساتھ بھی لڑائی ہوئی ہے۔