.

غزہ پر اسرائیلی جارحیت فتح اور حماس اختلافات ختم کرنے پر آمادہ

اسرائیلی حملوں میں فلسطینیوں کی شہادتوں میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطینی دھڑوں حماس اور فتح نے اپنے سیاسی اختلافات کو بھلا کر غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہونے کا اعلان کیا ہے جبکہ گذشتہ چھے روز سے جاری اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ایک سو ہو گئی ہے اور سات سو بیس سے زیادہ زخمی ہیں۔

مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینیوں نے غزہ میں مقیم اپنے بھائیوں سے اظہار یک جہتی کے لیے اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے فتح کے سنئیر عہدے دار جبریل رجوب نے کہا کہ ''ہم یہاں دوسرے دھڑے کے لیڈروں کے ساتھ اپنے اختلافات کے خاتمے کا اعلان کر رہے ہیں''۔

ریلی میں مغربی کنارے میں حماس کے قائدین اور اسلامی جہاد کے کارکنان بھی شریک تھے۔ حماس کے سرکردہ لیڈر محمود الرماہی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ''آج کے بعد جو کوئی بھی اختلاف کی بات کرے گا، وہ مجرم ہو گا''۔

حماس اور فتح کے درمیان گذشتہ کئی سال سے اختلافات چلے آ رہے ہیں لیکن اب وہ اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے اختلافات کو بھلانے پر آمادہ ہو گئے ہیں اور ان کے اس اعلان سے قبل فلسطینی اتھارٹی نے غزہ بحران پر غور کے لیے عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے۔

غزہ پر اسرائیلی حملے

ادھر غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی فوج نے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور سوموار کو مزید کم سے کم بیس فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کے جنوبی قصبے خان یونس میں ایک موٹر سائیکل کو میزائل سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں دو فلسطینی شہید اور ایک کم سن بچہ شدید زخمی ہو گیا۔

غزہ کی ایمبولینس سروس نے شہید ہونے والے دونوں فلسطینیوں کے نام عبداللہ ابو خاطر (عمر تیس سال) اور محمود ابو خاطر (بتیس سال) بتائے ہیں۔ فوری طور پر ان میں باہمی تعلق کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔ قبل ازیں اسرائیلی فوج کے اسی علاقے میں ایک اور حملے میں دو کسان ابراہیم آل آستل اور اوباما آل آستل شہید ہو گئے۔

غزہ شہر کے جنوب میں صہیونی طیاروں نے ایک کار کو میزائل سے نشانہ بنایا۔ اس حملے میں ایک تئیس سالہ نوجوان محمد شمالہ شہید اور اس کے تین ساتھی زخمی ہو گئے۔ غزہ کے وسطی قصبے دیر البلح میں اسرائیلی فوج کے ایک اور حملے میں تین فلسطینی شہید ہو گئے۔ ان کا تعلق ایک ہی خاندان سے تھا اور ان کے نام عامر بشیر، تمل بشیر اور صلاح بشیر بتائے گئے ہیں۔

سوموار کو علی الصباح غزہ شہر کے مشرقی علاقے زیتون میں ایک مکان پر حملے میں دو نوجوان خواتین، ایک بچہ اور ایک نو جوان شہید ہو گیا۔ ان کی عمریں پانچ سے پنتیس سال کے درمیان تھیں۔ غزہ کے قصبے بیت لاہیا میں ایک اور حملے میں ایک پچاس سالہ کسان شہید ہو گیا۔

غزہ شہر پر اسرائیلی فوج جدید ہتھیاروں سے لیس جنگی طیاروں سے حملوں کے علاوہ ساحلی علاقے سے بحری جنگی جہازوں سے بھی گولہ باری کر رہی ہے۔ گذشتہ روز اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں میں دس بچوں اور چھے خواتین سمیت اکتیس فلسطینی شہید ہو گئے تھے۔ ان میں ایک ہی خاندان کے نو افراد بھی شامل تھے۔