.

مصر اپنا سفارتی کردار بحال کرنے میں کوشاں ہے ٹیلی گراف

اسرائیلی جارحیت رکوانے کا معاہدہ ٹیسٹ کیس ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
غزہ کی بحرانی صورتحال میں مصر عرب دنیا میں اپنا سفارتی کردار بحال کرنے میں کوشاں ہے۔ ادھراسرائیل نے غزہ میں خونریزی رکوانے اور جنگ بندی کی خاطر اپنا نمائندہ قاہرہ مذاکرات کے لئے بھجوایا ہے۔

ان خیالات کا اظہار مؤقر برطانوی اخبار 'ٹیلی گراف' نے پیر کے روز شائع ہونے والی رپورٹ میں کیا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے دراصل مصر میں برسراقتدار آنے والی اخوان المسلمون کے بطن سے ہی جنم لیا ہے۔ اسی وقت سے حماس کے اپنا پرانے اتحادیوں [ایران اور شام] سے تعلقات تنزلی کا شکار ہونے لگے۔ شام میں انقلابی تحریک نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اس پس منظر میں پرانے اتحادیوں کے بجائے غزہ کے ہمسایہ سنی ملک ہی حماس کو مادی اور سفارتی مدد فراہم کرنے لگے۔

درایں اثنا سیاسی افق پر ترکی، قطر اور مصر پر مشتمل غیر رسمی اتحاد ابھرا۔ حال ہی میں قاہرہ میں ان ملکوں کے سربراہوں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں جلاوطن فلسطینی رہنما خالد مشعل نے بھی شرکت کی۔ تمام رہنماؤں نے غزہ کی صورتحال اور پیش آئند لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔

ترک وزیر اعظم کی معیت میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصری صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے کہا کہ مستقبل قریب میں غزہ جنگ بندی معاہدے کا امکان ہے۔ اگرچہ تنظیمی اعتبار سے ترکی کی جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کا اخوان المسلمون سے تعلق نہیں تاہم اس کے باوجود بعض اخوانی حلقوں کا کہنا ہے کہ خطے کے معروضی حالات میں بہتری کے لئے ترکی نقش قدم پر چلنا مفید ہو سکتا ہے۔

امیر قطر الشیخ بن خلیفہ آل ثانی بھی ان مذاکرات میں شریک تھے۔ ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق قطر بھی عرب دنیا میں اخوان اور دیگر اسلام پسندوں کی کوششوں کو سہارا دے رہا ہے، بالخصوص عرب بہاریہ میں دوحہ کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں۔ الشیخ حمد نے گزشتہ ماہ غزہ کا دورہ کیا جس کے دوران انہوں نے اہالیاں غزہ کو مادی امداد پہنچائی۔ اس اقدام کا معنوی فائدہ اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے اٹھایا۔

اخبار نے اپنی رپورٹ میں اس امر کی جانب بھی اشارہ کیا کہ مذکورہ بالا تمام ملکوں میں کوئی بھی مغرب بالخصوص امریکا مخالف نہیں۔ تمام واشنگٹن کے اتحادی ہیں۔ مشرق وسطی میں سب سے بڑی فوجی بیس کا میزبان قطر ہے۔ ترکی معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم [نیٹو] کا رکن ہے۔ انقلاب کے باوجود مصر نے امریکی فوجی امداد حاصل کرنے کا عندیہ ظاہر کیا ہے۔

یہ تینوں ملک مشرق وسطی کے مسلمان ملکوں میں ایک نادر نمونہ اس لحاظ سے بھی ہیں کہ ان میں سے مصر اور ترکی کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات ہیں جبکہ قطر میں اسرائیل کا علانیہ تجارتی دفتر قائم ہے۔

تینوں ملکوں میں یہ بات قدرے مشترک ہے کہ یہ یک زبان ہو کر اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی فلسطین مخالف پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ محمود عباس کی قیادت میں فلسطینی اتھارٹی کی کمزور حیثیت سے حماس کو موقع دیا جانا چاہئے۔ اس خیال سے اسرائیل کے پر جلتے ہیں۔

ٹیلی گراف کے مطابق اگر مصر، غزہ میں جنگ بندی کرانے میں کامیاب ہو گیا تو مصر اپنے اتحادی واشنگٹن سے کوئی بڑا مطالبہ منوا سکتا ہے۔ امکانی طور پر قاہرہ، اسرائیل اور حماس کے جنگ بندی معاہدے میں امریکا کو ضامن بننے کی درخواست کر سکتا ہے۔ ایسا ہونے پر علاقے کے سنی ممالک حماس کو دباؤ میں لانے کی پوزیشن میں ہوں اور واشنگٹن اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے اسرائیل کو راہ راست پر رکھ سکتا ہے۔