.

اسرائیلی یہودی نے امریکی سفارت خانے کے محافظ کو چاقو گھونپ دیا

حملہ آور گرفتار، حملے کے محرک کی تحقیقات جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں ایک یہودی نے امریکی سفارت خانے کے ایک سکیورٹی محافظ کو چاقو گھونپ دیا ہے جبکہ دوسرے محافظوں کی فائرنگ کے بعد اس حملہ آور پر قابو پا لیا گیا ہے۔

اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان نے بتایا ہے کہ حملہ آور یہودی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس کی عمر اکتالیس ہے اور اس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ مجرمانہ ریکارڈ کا حامل ہے۔

ترجمان لوبا سامری نے فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا ہے کہ ''مشتبہ حملہ آور منگل کو دن گیارہ بجے کے قریب امریکی سفارت خانے کی جانب آیا تھا۔اس کے پاس ایک تھیلا تھا اوروہ چاقو اور خنجر سے مسلح تھا۔اس نے ایک سکیورٹی گارڈ پر حملہ کردیا اور اس کی ٹانگ پر زخم آئے ہیں۔اس کے بعد محافظ کے ساتھیوں نے حملہ آور پر فائرنگ کردی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ حملہ آور فائرنگ سے زخمی نہیں ہوا تھا بلکہ اس کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور وہ عرب نہیں ہے۔ خاتون ترجمان نے اس حملہ آور کی مزید شناخت نہیں بتائی اور صرف یہ کہا ہے کہ وہ تل ابیب کے جنوب میں واقع قصبے بیت یام سے تعلق رکھتا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ امریکی سفارت خانے کے داخلی دروازے کے باہر پیش آیا ہے۔ تاہم فوری طور پر اس واقعہ کے محرک کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ حملہ آور ایک مزدا کار میں سوار ہو کر ساحل سمندر کی جانب واقع امریکی سفارت خانے آیا تھا۔

کوہن نامی اس عینی شاہد کے بہ قول اس نے کار سے اترتے ہی سکیورٹی گارڈز کی جانب بھاگنا شروع کر دیا اور انھوں نے اسے زمین پر لیٹ جانے اور خود کو حوالے کرنے کا کہا لیکن اس کے باوجود وہ آگے بڑھتا رہا اور اس نے ایک محافظ کے قریب پہنچ کر اس کو چاقو گھونپ دیا۔ اس پر اس کے ساتھی محافظوں نے ہوائی فائرنگ شروع کر دی۔ پولیس نے حملہ آور کو حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔