.

برطانیہ نو تشکیل شدہ شامی قومی اتحاد کو تسلیم کرنے کا اعلان

نیا اتحاد شامی عوام کا حقیقی نمائندہ ہے: برطانوی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
برطانیہ نے شامی حزب اختلاف کے نئے قومی اتحاد کو خانہ جنگی کا شکار ملک کے عوام کا حقیقی نمائندہ ہونے کی حیثیت سے تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے منگل کو ایک بیان میں شامی قومی اتحاد کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے اور وہ فرانس کے بعد دوسرا یورپی ملک ہے جس نے شامی اتحاد کو تسلیم کیا ہے۔

شامی قومی اتحاد گذشتہ ہفتے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں کئی گھنٹے کی مسلسل بات چیت کے بعد تشکیل پایا تھا۔ اس کو اب تک عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے علاوہ ترکی اور فرانس نے شامی عوام کے قانونی اور جائز نمائندہ کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

حزب اختلاف کے نئے شامی قومی اتحاد کے صدر دفاتر قاہرہ میں قائم کیے جائیں گے۔ اس بلاک کے سربراہ احمد معاذ الخطیب کا کہنا ہے کہ انھیں عربوں کے علاوہ بین الاقوامی حمایت حاصل ہے مگر شام کے شمالی صوبہ حلب میں صدر بشار الاسد کی فوج کے خلاف بر سر پیکار اسلامی جنگجوؤں نے حزب اختلاف کے اس نئے اتحاد کو مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ شام میں اسلامی ریاست کا قیام چاہتے ہیں۔

فرانس نے گذشتہ منگل کو یورپی ممالک میں سب سے پہلے شامی قومی اتحاد کو عوام کا حقیقی نمائندہ تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم صدر بشار الاسد کی حکومت کے مخالف امریکا نے ابھی تک نئی شامی قومی کونسل کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ شامی قومی اتحاد کو شام کے اندر حاصل عوام کی حمایت سے متعلق مزید شواہد کا جائزہ لے گا۔ اس کے بعد وہ اس کو جلا وطن حکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرے گا۔

باغیوں کی انٹیلی جنس سروس

درایں اثناء فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے اطلاع دی ہے کہ شامی باغیوں نے انقلاب کے تحفظ کے لیے ایک سکیورٹی سروس کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کے ترجمان فہد المصری نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو بیان پوسٹ کیا ہے۔ اس کے مطابق نئی سکیورٹی سروس کے قیام کا مقصد ''انقلاب کے بیٹوں'' کو حملوں، گرفتاریوں اور ہلاکتوں سے بچانا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث حزب اختلاف کے ارکان کا سراغ لگانا ہے۔

اس ویڈیو میں آٹھ افراد نمودار ہو رہے ہیں اور ان میں سے ایک خود کو کرنل اسامہ کے نام سے متعارف کراتا ہے اور وہ شامی انقلاب کے نیشنل سکیورٹی بیورو کی انٹیلی جنس سروسز ایڈمنسٹریشن کے قیام کا اعلان کرتا ہے۔

کرنل اسامہ کا کہنا تھا کہ ''اس کو اسد حکومت کے اور اس کے علاقائی اور عالمی اتحادیوں کے انٹیلی جنس نیٹ ورکس کے مقابلے میں انقلاب کا ایک طاقتور بازو ہونا چاہیے۔ انھوں نے اس انٹیلی جنس سروس کے انیس مختلف شعبوں کے سربراہوں کے ناموں کا بھی اعلان کیا۔ ان میں اُم عائشہ نام کی ایک خاتون بھی شامل ہیں اور انھیں لاجسٹکس کا انچارج بنایا گیا ہے۔

بیان کے مطابق اس انٹیلی جنس سروس کی داخلی اور خارجی شاخیں بھی تشکیل دی جائیں گی اور شام بھر میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں اس کے دفاتر قائم کیے جائیں گے۔

کرنل اسامہ نے کہا کہ انٹیلی جنس سروسز ایڈمنسٹریشن انقلابی فورسز سے الگ تھلگ ہو گی اور اس کا ایک بڑا مقصد صدر بشار الاسد کی سکیورٹی فورسز کی نقل وحرکت کا سراغ لگانا اور غلطیوں کے مرتکب انقلابیوں کا احتساب کرنا بھی ہے۔

اس پیغام میں یہ واضح نہیں ہے کہ باغیوں کے اس انٹیلی جنس ادارے کو کنٹرول کون کرے گا اور اس کا حقیقی نگران کون ہو گا۔ واضح رہے کہ شامی صدر بشار الاسد اور ان کے والد اور پیش رو صدر حافظ الاسد اپنے ملک کے مختلف انٹیلی جنس اداروں کی مدد سے ہی ملک اور اس کے عوام کو کنٹرول کرتے رہے ہیں۔