برطانیہ نو تشکیل شدہ شامی قومی اتحاد کو تسلیم کرنے کا اعلان

نیا اتحاد شامی عوام کا حقیقی نمائندہ ہے: برطانوی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

درایں اثناء فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے اطلاع دی ہے کہ شامی باغیوں نے انقلاب کے تحفظ کے لیے ایک سکیورٹی سروس کے قیام کا اعلان کیا ہے۔

باغی جنگجوؤں اور فوجیوں پر مشتمل جیش الحر کے ترجمان فہد المصری نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو بیان پوسٹ کیا ہے۔ اس کے مطابق نئی سکیورٹی سروس کے قیام کا مقصد ''انقلاب کے بیٹوں'' کو حملوں، گرفتاریوں اور ہلاکتوں سے بچانا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث حزب اختلاف کے ارکان کا سراغ لگانا ہے۔

اس ویڈیو میں آٹھ افراد نمودار ہو رہے ہیں اور ان میں سے ایک خود کو کرنل اسامہ کے نام سے متعارف کراتا ہے اور وہ شامی انقلاب کے نیشنل سکیورٹی بیورو کی انٹیلی جنس سروسز ایڈمنسٹریشن کے قیام کا اعلان کرتا ہے۔

کرنل اسامہ کا کہنا تھا کہ ''اس کو اسد حکومت کے اور اس کے علاقائی اور عالمی اتحادیوں کے انٹیلی جنس نیٹ ورکس کے مقابلے میں انقلاب کا ایک طاقتور بازو ہونا چاہیے۔ انھوں نے اس انٹیلی جنس سروس کے انیس مختلف شعبوں کے سربراہوں کے ناموں کا بھی اعلان کیا۔ ان میں اُم عائشہ نام کی ایک خاتون بھی شامل ہیں اور انھیں لاجسٹکس کا انچارج بنایا گیا ہے۔

بیان کے مطابق اس انٹیلی جنس سروس کی داخلی اور خارجی شاخیں بھی تشکیل دی جائیں گی اور شام بھر میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں میں اس کے دفاتر قائم کیے جائیں گے۔

کرنل اسامہ نے کہا کہ انٹیلی جنس سروسز ایڈمنسٹریشن انقلابی فورسز سے الگ تھلگ ہو گی اور اس کا ایک بڑا مقصد صدر بشار الاسد کی سکیورٹی فورسز کی نقل وحرکت کا سراغ لگانا اور غلطیوں کے مرتکب انقلابیوں کا احتساب کرنا بھی ہے۔

اس پیغام میں یہ واضح نہیں ہے کہ باغیوں کے اس انٹیلی جنس ادارے کو کنٹرول کون کرے گا اور اس کا حقیقی نگران کون ہو گا۔ واضح رہے کہ شامی صدر بشار الاسد اور ان کے والد اور پیش رو صدر حافظ الاسد اپنے ملک کے مختلف انٹیلی جنس اداروں کی مدد سے ہی ملک اور اس کے عوام کو کنٹرول کرتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں