.

حماس کے لیڈر امن اور تلوار میں سے ایک کا انتخاب کریں نیتن یاہو

امن چاہنے والے ہمسایوں کی جانب ''صلح'' کا ہاتھ بڑھائیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے غزہ کی حکمراں فلسطینی جماعت حماس کے لیڈروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ امن اور تلوار میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔

انھوں نے منگل کو اسرائیل اور فلسطینی تنظیموں کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کی اطلاع منظر عام پر آنے سے قبل ایک بیان میں کہا کہ ''ہم اپنے ہمسایوں میں سے ان لوگوں کی جانب اپنا ہاتھ بڑھائیں گے جو امن چاہتے ہیں لیکن جو لوگ ہمیں اس ملک سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں، ان کی جانب ہم مضبوطی سے داؤدی تلوار تھامنے والا ہاتھ بڑھائیں گے''۔ جنگ پسند صہیونی وزیر اعظم حضرت داؤد علیہ السلام کی تلوار کا حوالہ دے رہے تھے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ''ہم نے اسرائیلی شہریوں پر برسانے کے لیے غزہ میں رکھے گئے ہزاروں راکٹوں اور میزائلوں کے ذخیرے کو تباہ کر دیا ہے۔ ان میں طویل فاصلےتک مار کرنے والے راکٹ بھی شامل ہیں۔ ہم حماس، اسلامی جہاد اور دوسرے گروپوں پر حملہ کا سلسلہ جاری رکھیں گے''۔

انھوں نے یہ انتہا پسندانہ بیان اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون کی مقبوضہ بیت المقدس میں آمد سے چندے قبل جاری کیا ہے جبکہ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن بھی اسرائیلی اور فلسطینی لیڈروں سے بات چیت کے لیے علاقے کے دورے پر پہنچ گئی ہیں۔

ادھر نیویارک میں اسرائیل کے پشتی بان امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ بحران سے متعلق بیان کو بلاک کر دیا ہے۔ اس نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اس سے جوابی ردعمل ہو سکتا ہے اور جنگ بندی کے لیے جاری بات چیت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

روس نے گذشتہ روز دھمکی دی تھی کہ عرب ممالک کے غزہ بحران سے متعلق مجوزہ بیان کو بلاک کیا گیا اور منگل تک اس کے بارے میں کوئی اتفاق رائے نہیں ہوتا تو وہ سلامتی کونسل میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کے لیے ایک مکمل قرار داد لے آئے گا۔بعض سفارت کاروں کا کہنا ہےکہ امریکا ماضی کی طرح اسرائیل مخالف اس قرارداد کو ویٹو کر سکتا ہے۔

فلسطینیوں اور بعض عرب سفارت کاروں نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو رکوانے کے لیے کوئِی اقدام نہ کرنے پر سلامتی کونسل پر کڑی تنقید کی ہے۔ سلامتی کونسل کا غزہ بحران پر گذشتہ بدھ کو ہنگامی اجلاس ہوا تھا لیکن اس میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا تھا۔