.

غزہ جنگ اسرائیلی معیشت کو یومیہ 40 کروڑ ڈالر کا ٹیکہ

میزائل شکن نظام پر 200 ملین ڈالر پھونکے جا رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
فلسطینی شہر غزہ پر اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے باعث فلسطینیوں کا بے پناہ جانی اور مالی نقصان تو ہو رہا ہے لیکن یہ جنگ خود صہیونی ریاست کی معاشی تباہی کا بھی موجب بن رہی ہے۔ اسرائیل کے سرکاری اداروں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ غزہ جنگ کی وجہ سے ملکی معیشت کو یومیہ چالیس کروڑ ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ان میں سے نصف رقم فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کے دفاع کے لیے نصب کردہ میزائل شیلڈ 'آئرن ڈوم' پر خرچ کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ میزائل شکن نظام کے ذریعے فلسطینیوں کے داغے گئے 90 فی صد راکٹوں کو اسرائیلی شہروں اور آبادیوں میں گرنے سے قبل ہی تباہ کر دیتے ہیں۔ صہیونی فوج کے اس دعوے کی اصلیت عبرانی میڈیا نے بے نقاب کر دی ہے۔



اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے اپنے ایک بیان میں فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کے جواب میں آئرن ڈوم کی دفاعی صلاحیت پر اِتراتے ہوئے اس کی کارکردگی پر فخر کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آئرن ڈوم کے ذریعے فلسطینیوں کے داغے گئے 350 راکٹوں کو اپنے ہدف سے پہلے تباہ کیا گیا ہے، جن پر 20 ملین ڈالرز لاگت آئی ہے۔



خیال رہے کہ فلسطینیوں راکٹوں کے مقابلے میں اسرائیل کو ان کے دفاع میں کئی سو گنا زیادہ قیمت ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ حماس کے ملٹری ونگ القسام بریگیڈ کے مقامی سطح پر تیارکردہ 'القسام' راکٹوں پر زیادہ سے زیادہ ایک سو ڈالر کی لاگت آتی ہے۔ مزاحمت کاروں کے پاس سب سے مہنگا راکٹ گراڈ ہے جو تقریبا گیارہ سو ڈالرز میں تیار ہوتا ہے جبکہ اسرائیل کو انہیں تباہ کرنے کے لیے کروڑوں ڈالرز خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔



رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے ایک آئرن ڈوم کی تنصیب پر کم سے کم 200 ملین ڈالر خرچ اٹھتا ہے۔ صہیونی فوج نے اب تک کم سے کم اس طرح کے چھے میزائل شکن سسٹم نصب کر رکھے ہیں۔ وزیر دفاع نے ان کی تعداد 13 تک بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق غزہ میں حماس کے خلاف جاری تازہ جنگ میں اسرائیل نے چالیس ہزار ریزرو فوج طلب کر رکھی ہے، جس پر یومیہ فوج کو سات لاکھ ساٹھ ہزار ڈالر پھونکنا پڑ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے کے ایک گھنٹہ کی پرواز پر 1500 ڈالر جبکہ دوسرے جنگی جہاز کے ایک گھنٹے کے پندرہ ہزار ڈالرز کے اخراجات ہیں۔