.

امریکا کے تین جنگی بحری جہاز اسرائیل روانہ کر دیئے گئے

اقدام کا مقصد امریکی شہریوں کے ممکنہ انخلاء میں مدد دینا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
امریکا نے بڑھتی ہوئی فلسطین ۔ اسرائیل کشیدگی کے باعث اپنے شہریوں کو علاقے سے بہ حفاظت نکالنے کے لئے تین جنگی بحری جہاز اسرائیل روانہ کر دیے ہیں۔ امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' نے وزارت دفاع پینٹاگون کے حوالے سے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیل سے امریکی شہریوں کے فوری انخلاء کا کوئی امکان نہیں۔ البتہ جنگی بحری جہازوں کی روانگی محض احتیاطی تدابیر کے تحت عمل میں لائی گئی ہے۔

پینٹاگون نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ یہ جنگی جہاز فلسطین اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی صورت میں تل ابیب کو فوجی مدد دیں گے۔ ان بحری جہازوں کی روانگی کا مقصد صرف امریکی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

ہیلری کی تل ابیب آمد

ادھر امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن منگل کی شام تل ابیب پہنچی ہیں، جہاں وہ آج (بدھ کو) وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو اور اعلٰٰی حکومتی عہدیداروں سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔ ہیلری کی اسرائیل آمد کا مقصد فلسطینی مزاحمت کاروں اور تل ابیب کے درمیان مصر کی ثالثی کے تحت جاری امن بات چیت کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

ہیلری کا دورہ اسرائیل ایک ایسے وقت ہو رہا ہے کہ پینٹاگان کے تین جنگی بحری جہاز اسرائیل کی جانب روانہ کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ اسرائیل میں موجود امریکی باشندوں کو محتاط رہنے اور کشیدگی کی صورت میں ملک چھوڑنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں۔ اسرائیلی اخبار 'یدیعوت احرونوت' کے مطابق بحر متوسطہ میں ایرانی خطرات کے مقابلے کی خاطر تعینات تین سے چار جنگی بحری جہازوں کو اسرائیلی ساحل روانہ کیا گیا ہے۔

باراک اوباما کے مرسی اور یاہو کو ٹیلیفون

ادھر صدر براک اوباما نے اپنے مصری ہم منصب ڈاکٹر محمد مرسی اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو سے ٹیلفون پر بات چیت کی۔ ذرائع کے مطابق امریکی صدر نے ڈاکٹر محمد مرسی سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا کہ واشنگٹن، حماس کے اسرائیل پر حملوں کو فوری بند کرانے کا خواہاں ہے۔ حماس کے راکٹ حملے روکنے کے لیے مصر اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' صدر اوباما کے حوالے سے بتایا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں کی طرف سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کا سلسلہ اب بند ہونا چاہیے۔ صدر محمد مرسی نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے امریکی صدر کو اپنی تشویش سے بھی آگاہ کیا۔ بعد ازاں براک اوباما نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو سے بھی ٹیلیفون پر بات چیت کی اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے راکٹ حملوں سے یہودی جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے صدر براک اوباما کمبوڈیا میں مشرقی ایشیائی ریاستوں کی سربراہ کانفرنس میں شریک تھے اور انہوں نے وہیں سے دونوں رہ نماؤں سے ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ یاد رہے کہ صدر اوباما فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کی ننگی جارحیت کی کھلی حمایت کر چکے ہیں، جس کے بعد انہیں عالمی سطح پر سماجی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ البتہ امریکا کے لیے اسرائیلی حمایت کی وجہ سے عالمی تنقید کوئی نئی بات نہیں۔