تل ابیب میں دھماکا،17 یہودی زخمی، اسرائیلی حملوں میں 10 فلسطینی شہید

اسرائیلی حکام نے واقعہ کو دہشت گردی قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ادھر غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی اطلاع منظر عام پر آنے کے چند گھنٹے کے بعد اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک سو سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور ان حملوں میں ایک دو سالہ شیر خوار بچے سمیت دس افراد شہید اور بیسیوں زخمی ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی فضائیہ نے غزہ پر گذشتہ آٹھ روز میں پندرہ سو سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں اور ان میں غزہ کے حکام کے مطابق ایک سو چھیالیس فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ ان میں چھتیس بچے بھی شامل ہیں۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے غزہ سے اسرائیل کی جانب چودہ سو راکٹ فائر کیے ہیں۔ ان سے چار یہودی اور ایک فوجی مارا گیا ہے۔

مصر کی ثالثی کے نتیجے میں منگل کی رات حماس اور اسرائیل کے درمیان بہتر گھنٹے کے لیے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا اور اس دوران جنگ بندی کے سمجھوتے کی شرائط طے کی جا رہی ہیں۔ ایک اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق حماس، اسرائیل سے غزہ کی ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ اسرائیل کا حماس سے مطالبہ ہے کہ وہ غزہ سے اس کے علاقے کی جانب نہ تو خود راکٹ حملے کرے اور نہ دوسری تنظیموں کو ایسا کرنے دے۔

غزہ پر اسرائیلی جارحیت رکوانے اور فریقین کے درمیان جنگ بندی کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اسرائیلی اور فلسطینی قیادت سے اس سلسلہ میں بات چیت کی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے مقبوضہ بیت المقدس میں ہلیری کلنٹن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلے کا طویل المیعاد حل چاہتے ہیں اور ناپائیدار حل کا نتیجہ تشدد کی ایک اور لہر کی صورت میں نکلے گا۔

ہلیری کلنٹن نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کی ہے۔ فلسطین کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات کا کہنا ہے کہ ''سیکرٹری کلنٹن نے صدر کو مطلع کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے اپنی ہر ممکن کوششیں بروئے کار لا رہی ہے اور صدر نے انھیں ان کوششوں میں اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر اسرائیل غزہ پر اپنی بمباری اور فلسطینیوں کے قتل عام کو بند کر دیتا ہے تو پھر ایک جامع جنگ بندی کا سمجھوتا طے پا جائے گا اور تمام فریق اس کی پاسداری کریں گے''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں