.

تل ابیب میں دھماکا،17 یہودی زخمی، اسرائیلی حملوں میں 10 فلسطینی شہید

اسرائیلی حکام نے واقعہ کو دہشت گردی قرار دے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب میں ایک بس میں بم دھماکے کے نتیجے میں سترہ افراد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج کے غزہ پر فضائی حملوں میں مزید دس فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔

تل ابیب کے وسط میں بدھ کو بم دھماکے کا واقعہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان عارضی جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹے کے بعد پیش آیا ہے۔ اسرائیلی ٹی وی پر نشر کی گئی ویڈیو میں بس سے دھماکے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے اور اس کے شیشے ٹوٹے ہوئے ہیں۔

اسرائیلی ایمبولینس سروس نے اس دھماکے کی تصدیق کی ہے جبکہ پولیس نے واقعہ کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا ہے۔ پولیس کی ترجمان لوبا سامری نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ تل ابیب کی شاہراہ شاؤل حاملیچ پر یہ دھماکا ہوا ہے۔ تاہم اس کا پس منظر اور اسباب ابھی واضح نہیں ہیں۔

العربیہ کے ایک نامہ نگار کی اطلاع کے مطابق اس واقعے میں سترہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ان میں تین کی حالت نازک بیان کی گئی ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ترجمان عفیر جینڈل مین نے اپنے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ''تل ابیب کے وسطی علاقے میں بس میں بم پھٹنے کے نتیجے میں دھماکا ہوا ہے۔ یہ دہشت گردی کا حملہ ہے اور بیشتر افراد کو معمولی زخم آئے ہیں''۔

حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابو زہری نے تل ابیب میں بم دھماکے کو غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے ردعمل میں قدرت کا انتقام قرار دیا ہے لیکن انھوں نے اس حملے کی ذمے داری قبول کرنے سے گریز کیا ہے۔ انھوں نے برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹَرز' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی دھڑے اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں فلسطینی شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ذرائع بروئے کار لائیں گے۔

اسرائیلی جارحیت

ادھر غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی اطلاع منظر عام پر آنے کے چند گھنٹے کے بعد اسرائیلی جنگی طیاروں نے ایک سو سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے اور ان حملوں میں ایک دو سالہ شیر خوار بچے سمیت دس افراد شہید اور بیسیوں زخمی ہو گئے ہیں۔

اسرائیلی فضائیہ نے غزہ پر گذشتہ آٹھ روز میں پندرہ سو سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں اور ان میں غزہ کے حکام کے مطابق ایک سو چھیالیس فلسطینی شہید ہو گئے ہیں۔ ان میں چھتیس بچے بھی شامل ہیں۔ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے غزہ سے اسرائیل کی جانب چودہ سو راکٹ فائر کیے ہیں۔ ان سے چار یہودی اور ایک فوجی مارا گیا ہے۔

مصر کی ثالثی کے نتیجے میں منگل کی رات حماس اور اسرائیل کے درمیان بہتر گھنٹے کے لیے عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا اور اس دوران جنگ بندی کے سمجھوتے کی شرائط طے کی جا رہی ہیں۔ ایک اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق حماس، اسرائیل سے غزہ کی ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ اسرائیل کا حماس سے مطالبہ ہے کہ وہ غزہ سے اس کے علاقے کی جانب نہ تو خود راکٹ حملے کرے اور نہ دوسری تنظیموں کو ایسا کرنے دے۔

سفارتی کوششیں

غزہ پر اسرائیلی جارحیت رکوانے اور فریقین کے درمیان جنگ بندی کے لیے سفارتی سطح پر کوششیں جاری ہیں اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اسرائیلی اور فلسطینی قیادت سے اس سلسلہ میں بات چیت کی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے مقبوضہ بیت المقدس میں ہلیری کلنٹن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مسئلے کا طویل المیعاد حل چاہتے ہیں اور ناپائیدار حل کا نتیجہ تشدد کی ایک اور لہر کی صورت میں نکلے گا۔

ہلیری کلنٹن نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کی ہے۔ فلسطین کے اعلیٰ مذاکرات کار صائب عریقات کا کہنا ہے کہ ''سیکرٹری کلنٹن نے صدر کو مطلع کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ غزہ میں جنگ بندی کے لیے اپنی ہر ممکن کوششیں بروئے کار لا رہی ہے اور صدر نے انھیں ان کوششوں میں اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر اسرائیل غزہ پر اپنی بمباری اور فلسطینیوں کے قتل عام کو بند کر دیتا ہے تو پھر ایک جامع جنگ بندی کا سمجھوتا طے پا جائے گا اور تمام فریق اس کی پاسداری کریں گے''۔