.

حماس اور اسرائیل کا جنگ بندی سمجھوتے پر اتفاق مصر

مصری حکام کی مصالحتی کوششیں رنگ لے آئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے وزیر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے اور اس پر دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں عمل درآمد کا آغاز ہو گیا ہے۔

مصری وزیر خارجہ محمد کامل عمرو نے بدھ کو قاہرہ میں اپنی امریکی ہم منصب ہلیری کلنٹن کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ غزہ میں حالیہ کشیدگی کے آغاز کے بعد مصر نے اس کے خاتمے کے لیے سرتوڑ کوششیں کی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ''جنگ بندی پر عمل درآمد کا قاہرہ کے مقامی وقت کے مطابق بدھ کی رات نو بجے سے آغاز (ہو گا) ہو گیا ہے۔ مصر کا تمام فریقوں سے مطالبہ ہے کہ جن باتوں سے اتفاق کیا گیا ہے، ان کے نفاذ کی نگرانی کی جائے اور تمام فریقوں کی جانب سے اس کی ضمانت دی جائے''۔

مصری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ''ان کے ملک کی کوششوں کے نتیجے میں غزہ میں جاری خونریزی کے خاتمے اور وہاں صورت حال کو معمول پر لانے کی راہ ہموار ہوئی ہے''۔ تاہم انھوں نے جنگ بندی کی شرائط کی تفصیل نہیں بتائی۔

قبل ازیں غزہ کی حکمراں حماس کے ایک عہدے دار نے فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ''حماس اور اسرائیل کے درمیان غزہ کی پٹی میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سمجھوتے سے اتفاق ہو گیا ہے اور اس کا کوئی آدھ گھنٹے کے بعد اعلان کیا جا رہا ہے''۔

ادھر مقبوضہ بیت المقدس میں انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی جنگ بندی کی اس ڈیل کی تصدیق کی ہے اور کہا ہےکہ انھوں نے امریکی صدر براک اوباما سے مشاورت کے بعد اس سے اتفاق کیا ہے۔

نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ انھوں نے مصر کی ثالثی کی تجویز کو ایک موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس واشنگٹن سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق صدر براک اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے مصر کے جنگ بندی کے منصوبے کی حمایت کے فیصلے کو سراہا ہے۔

بیان کے مطابق صدر اوباما نے اسرائیلی وزیر اعظم کو جنگ بندی کی تجویز سے اتفاق کرنے کے لیے کہا تھا جبکہ انھوں نے امریکا کے اس موقف کو دُہرایا ہے کہ اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے لیے سمجھوتا اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون اور امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کی شٹل سفارت کاری کے نتیجے میں طے پایا ہے لیکن اس کے اعلان سے چند گھنٹے قبل ہی اسرائیلی دارالحکومت تل ابیب میں ایک بس میں دھماکے کے نتیجے میں سترہ یہودی زخمی ہو گئے تھے۔

اس واقعہ کے ردعمل میں اسرائیلی فضائیہ نے غزہ کی پٹی پر بیسیوں فضائی حملے کیے ہیں اور ایک سو سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ ان حملوں میں دس فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ تشدد کے ان واقعات کے بعد فریقین کے درمیان جنگ بندی کے امکانات معدوم دکھائی دے رہے تھے لیکن مصر کی مصالحتی کوششیں رنگ لے آئی ہیں اور اسرائیل نے جارحیت روکنے سے اتفاق کر لیا ہے۔