.

صہیونی فوج کی جارحیت، الاقصیٰ ٹی وی سے وابستہ دوصحافی شہید

اسرائیلی طیاروں کے غزہ پر 100سے زیادہ فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
غزہ پر اسرائیلی فوج کے جارحانہ فضائی حملوں میں حماس کے ملکیتی الاقصیٰ ٹی وی سے وابستہ دو صحافیوں سمیت مزید بیس فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔

حماس کے تحت وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا ہے کہ منگل کو اسرائیلی طیارے نے غزہ شہر کے علاقے ناصر میں ایک کار کو نشانہ بنایا ہے۔اس حملے میں الاقصیٰ ٹی وی کے دو کیمرا مین محمود قومی اور حسام سلامہ سوار تھے اور وہ دونوں شہید ہو گئے ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ کار پر لگی پریس کی تختی واضح نظرآرہی تھی لیکن اس کے باوجود اس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اسرائیلی فوج نے پریس کی گاڑی کو نشانہ بنانے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔البتہ علاقے پر متعدد فضائی حملوں کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ ان میں اسلحہ کے ایک ڈپو اور میزائل چھوڑنے کی جگہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اشرف القدرہ نے مزید بتایا کہ غزہ شہر کےعلاقے شجئیہ میں فضائی حملے میں تین اور افراد شہید ہوئے ہیں۔شمالی قصبے بیت حانون اور دیرالبلاح پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری میں چھے افراد شہید ہوئے ہیں۔

قبل ازیں غزہ کے علاقے صبرہ پر ایک فضائی حملے میں چھے فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔شہر کے علاقے زیتون میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں دو کم سن بچوں کے چیتھڑے اڑ گئے۔ان کے کٹے پھٹے اعضاء غزہ کے الشفاء اسپتال منتقل کیے گئے ہیں۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق منگل کی شام تک اسرائیلی حملوں میں بیس افراد شہید ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں ایک سو سے زیادہ فضائی حملے کیے ہیں۔ان میں سے ایک حملے میں حماس کے تحت حکومت کے ایک مالیاتی ادارے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔فلسطینی حکام نے غزہ شہر میں واقع قومی اسلامی بنک پر حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہےکہ بمباری سے بنک کی عمارت تباہ ہو گئی ہے۔

محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کی غزہ کی پٹی پر چودہ نومبر سے جاری جارحیت کے دوران اب تک کم سے کم ایک سو تیس فلسطینی شہید اور ایک ہزار سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں جبکہ سیکڑوں عمارتیں اور مکانات تباہ ہوچکے ہیں۔اسرائیلی فوج غزہ میں حماس کے عسکری شعبے عزالدین القسام بریگیڈ کے کمانڈروں اور کارکنان کے مکانوں کو خاص طور پر نشانہ بنا رہی ہے۔