.

قاہرہ ملٹری اکیڈیمی میں پہلی مرتبہ باریش کیڈٹس کی بھرتی

محجب خواتین کیڈٹس بھی تربیت حاصل کریں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر میں عوامی انقلاب کے بعد ایک طرف اہم سول اداروں میں دینی رحجان رکھنے والے افراد کلیدی عہدوں پر فائر ہو رہے ہیں، دوسری جانب عسکری اداروں میں باریش مرد اور محجب خواتین بڑی تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری ملٹری اکیڈیمی میں نو وارد کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے کمانڈنٹ میجر جنرل عصمت مراد نے کہا ہے کہ کیڈٹس کی بھرتی میں کسی قسم کی سیاسی وابستگی کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا بلکہ 2400 کیڈٹس کا چناؤ متعلقہ حکام [اولی الامر] کی جانب سے طے کردہ معیار پر پورا اترنے کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ اس کام میں فوج یا کسی دوسرے ادارے کا کوئی عمل دخل نہیں۔

انہوں نے بتایا نئے بھرتی ہونے والے کیڈٹس میں تمام طبقات کو نمائندگی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ اکیڈیمی میں باریش کیڈٹس کو بھرتی کیا گیا ہے تاہم یہ پیش رفت کسی سیاسی یا سماجی تنظیم کے دباؤ یا فرمائش کی مرہون منت نہیں بلکہ باریش کیڈٹس بھی مطلوبہ تعلیمی اور جسمانی معیار پر پورا اترنے کی وجہ سے فوجی تربیت کے لئے منتخب کئے گئے ہیں۔



جنرل عصمت مراد نے نئے بھرتی ہونے والے کیڈٹس پر زور دیا کہ وہ اپنی وفاداری کسی جماعت یا گروہ سے وابستہ کرنے کے بجائے ملکی مفاد کو مقدم جانیں۔ مصری شہری کے طور پر آپ کی تمام وابستگیاں ملک و قوم کے ساتھ ہونی چاہئیں۔