.

چھے مشتبہ اسرائیلی مخبر غزہ چوک میں نشان عبرت بن گئے

نقاب پوش لاشیں موٹر سائیکل سے باندھ کر گھیسٹے رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
غزہ میں مسلح نقاب پوشوں نے اسرائیل کے لئے مخبری کرنے والے چھے مشتبہ 'جاسوسوں' کو شہر کے ایک بڑے چوراہے پر گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پرس 'اے پی' کے نامہ نگار نے عوام کے جم غفیر کو خون میں لت پت پانچ افراد کی نعشوں کے گرد جمع دیکھا ہے۔



'جاسوس ... جاسوس' کے فلک شگاف نعروں کی گونج میں چھٹی نعش کو تار سے موٹر سائیکل کے پیچھے باندھ کر گلیوں میں گھسیٹا گیا۔ موٹر سائیکلوں پر سوار متعدد مسلح افراد گھیسٹی جانے والی لاش کے ہمراہ ایک گھر کے سامنے سے گزرے جہاں اسرائیلی بمباری میں شہید ہونے والوں کا سوگ منایا جا رہا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پانچ لاشوں کے گرد جمع افراد میں چند افراد نے غصے کے اظہار کے لئے ان پر تھوک پھینکا اور ٹھڈے مارے۔

حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام نے ہاتھ سے لکھے پوسٹر میں مبینہ مخبروں کے قتل کی ذمہ داری قبول کی۔ یہ پوسٹر لاشوں کے قریب بجلی کے ایک کھمبے پر لٹکایا گیا تھا۔ پوسٹر کے مطابق: "ان چھے افراد کو حماس کے راکٹ لانچنگ اسٹینز اور جنگجوؤں کے بارے میں اسرائیل کو معلومات دینے کے الزام میں موت کے گھاٹ اتارا گیا"۔

یاد رہے مشتبہ مخبروں کی ہلاکت کا واقعہ غزہ پر مسلط اسرائیلی جنگ کے ساتویں روز پیش آیا جس میں 120 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اسرائیل، غزہ میں اپنے اہداف کی نشاندہی کے لئے مقامی مخبروں پر انحصار کرتا ہے۔