.

اخوان کے مُرشد عام نے اسرائیل کے ساتھ امن کی مخالفت کر دی

فلسطینی علاقوں کو آزاد کرانے کے لیے جہاد پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کی طاقتور مذہبی سیاسی جماعت اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع نے اسرائیل کے ساتھ امن کی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے اور اس کے زیر قبضہ فلسطینی علاقوں کو آزاد کرانے کے لیے جہاد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اخوان کے سربراہ نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتا طے پانے کے ایک روز بعد بیان میں کہا ہے کہ ''دشمن طاقت کی زبان کے سوا کچھ نہیں سمجھتا۔ عظیم دھوکے کے کھیل سے خبردار رہیں۔ وہ امن معاہدوں کو سبوتاژ کرتے رہے ہیں''۔

ان کا یہ بیان اخوان کی ویب سائٹ پر جمعرات کو جاری کیا گیا ہے اور اسے صحافیوں کو بھی ای میل کے ذریعے بھیجا گیا ہے۔ محمد بدیع کا کہنا ہے کہ ''مسلمانوں پر جہاد فرض ہے'' لیکن ان کے بہ قول ''مسلمانوں میں اتحاد قائم ہونے کی صورت میں آخری مرحلے پر ہتھیار اٹھائے جا سکتے ہیں۔ اگر گروپ کے منتشر، غیر منظم، عزم میں کمزوری اور کمزور عقیدہ ہونے کی صورت میں طاقت کا استعمال کیا جاتا اور اسلحہ اٹھایا جاتا ہے تو وہ موت ہی سے ہم کنار ہوں گے''۔

انھوں نے تمام مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ فلسطین میں اپنے بھائیوں کی پشتی بانی کریں۔ انھیں جس چیز کی بھی ضرورت ہے، وہ انھیں مہیا کی جائے اور تمام بین الاقوامی فورمز پر ان کی کامیابی کے لیے کوششیں کی جائیں''۔

واضح رہے کہ ماضی میں اخوان ہی سے تعلق رکھنے والے مصر کے صدر محمد مرسی نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتا طے کرانے میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور ان کی کوششوں کے نتیجے ہی میں غزہ پر اسرائیلی فوج کی گذشتہ آٹھ روز سے جاری جارحیت کا خاتمہ ہوا ہے۔

اخوان المسلمون اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتی اور اس کے عہدے دار اور ارکان اسرائیلی حکام سے براہ راست بات چیت کے بھی مخالف ہیں لیکن صدر محمد مرسی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ وہ 1979ء میں مصر کے اسرائیل کے ساتھ طے شدہ امن معاہدے کی پاسداری کریں گے۔ ان کی سابقہ جماعت کے بعض عہدے داروں کا بھی کہنا ہے کہ وہ فی الوقت صہیونی ریاست کے ساتھ مسلح تنازعے کے حق میں نہیں۔