.

حماس ۔ اسرائیل جنگ بندی کی کامیابی پر فلسطین میں جشن کا سماں

جنگ بندی کی خوشی میں ہوائی فائرنگ، ریلیاں، بھنگڑے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصری کوششوں سے اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] اور اسرائیل کے درمیان لڑائی ختم کرنے کے اعلان کے بعد فلسطین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ رات گئے فلسطینی غزہ کی پٹی اور مقبوضہ غرب اردن میں جنگ بندی معاہدے کی خوشی میں سڑکوں پر نکل آئے۔ لوگ بہت خوش دکھائی دے رہے تھے لیکن انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ فریقین میں ہوئی جنگ بندی کو عملا نافذ کرنے کے لیے عالمی برادری اپنا دباؤ برقرار رکھے۔



اعلان جنگ بندی کے بعد غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کی مساجد میں جمع لوگ نعرہ تکبیر بلند کرتے سڑکوں پر نکل آئے۔ جنگ بندی کی خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ شدید ہوائی فائرنگ کی گئی اور لوگ بھنگڑے ڈالتے رہے۔ کئی مقامات پر شہریوں نے سیز فائر کی خوشی میں ریلیاں بھی نکالیں۔



غزہ کی پٹی اور غردب اردن میں شہریوں نے فائر بندی معاہدے کو فلسطینی مزاحمت کاروں کی فتح قرار دیا اور شہری ایک دوسرے کو مزاحمت کی فتح کی مبارکباد کا تبادلہ کرتے رہے۔ حماس کی قیادت نے شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ آتش بازی اور ہوائی فائرنگ سے گریز کریں لیکن اس باوجود شہری آتش بازی اور ہوائی فائرنگ بھی کرتے رہے۔

معاہدے پر 24 گھنٹے میں عملدرآمد یقینی

بدھ کی شب مصر اور دیگر عرب ممالک کی کوششوں سے طے پائے امن معاہدے میں فریقین نے ایک دوسرے کی اہم شرائط مان لی ہیں۔ معاہدے کے تحت حماس غزہ سے اسرائیلی آبادیوں میں راکٹ حملوں سمیت سرحد پار کسی قسم کی کارروائیاں نہیں کرے گی۔

دوسری جانب اسرائیل غزہ پر ہرطرح کی جارحیت مکمل بند کرے گا۔ ٹارگٹ کلنگ اور شہر میں دراندازی روک دی جائے گی اور سب سے اہم بات یہ کہ غزہ کی سات سال سے بند راہداریوں کو اگلے چوبیس گھنٹے میں کھول دیاجائے گا۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی 'معا' کے مطابق حماس کا اسرائیل سے غزہ کی ناکہ بندی ختم کرانے کی شرط منظور کرانا ایک بڑی کامیابی ہے۔ معاہدے کی رو سے صہیونی ریاست غزہ کے شہریوں کی دوسرے علاقوں میں آمد ورفت اور باہمی تجارتی سرگرمیوں پر پابندیاں ختم کرے گا۔ فریقین چوبیس گھنٹے میں معاہدے کے تمام نکات پر عملدرآمد کے پابند ہوں گے۔

جنگ بندی معاہدے کی کامیابی اور فریقین کی طرف سے اس پر عملدرآمد کے لیے مصر نے ضمانت فراہم کی ہے۔ فریقین میں سے کسی ایک کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں فریق ثانی مصر سے رجوع کرے گا۔