.

صدر مرسی کا انقلابیوں کی ہلاکتوں کے دوبارہ ٹرائل کا حکم

اٹارنی جنرل برطرف، دستور ساز اسمبلی کی مدت میں دو ماہ کی توسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مصر کے صدر محمد مرسی نے سابق صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران انقلابیوں کی ہلاکتوں میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے دوبارہ ٹرائل کا حکم دیا ہے اور ملک کے پراسیکیوٹر جنرل کو ان کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

صدر مرسی نے جمعرات کو ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت موجودہ پراسیکیوٹر جنرل عبدالمجید محمود کو ہٹا دیا گیا ہے اور ان کی جگہ طلعت ابراہیم عبداللہ کو ملک کا نیا پراسیکیوٹرجنرل مقرر کیا گیا ہے۔ وہ عدلیہ سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کا چار سال کے لیے تقرر کیا گیا ہے۔

صدر مرسی نے دستور ساز اسمبلی کی مدت میں بھی دو ماہ کے لیے توسیع کر دی ہے۔ ان فیصلوں کے اعلان سے قبل انھوں نے اپنے سرکاری ٹویٹر پر پوسٹ کیے گئے بیان میں کہا کہ انھوں نے جو بھی فیصلے کیے ہیں اور مستقبل میں وہ جو فیصلے کریں گے، وہ گذشتہ سال برپا شدہ انقلاب کے مقاصد کو پورا کرنے کے لیے ہیں۔

مصر کے سرکاری روزنامے اہرام کی رپورٹ کے مطابق صدر مرسی نے ان اعلانات سے قبل وزیر اعظم ہشام قندیل اور وزیر انصاف کو ہنگامی طور پر طلب کیا تھا اور ان سے ان فیصلوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تھا۔ واضح رہے کہ انھوں نے اس سے پہلے بھی پراسیکیوٹر جنرل کو برطرف کیا تھا لیکن انھوں نے صدر کا فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

درایں اثناء قاہرہ میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں بہتر افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ دارالحکومت کے تحریر اسکوائر میں چار روز سے گذشتہ سال نومبر میں تشدد کے بدترین واقعات کی برسی کے موقع پر مظاہرے کیے جارہے ہیں۔ مظاہرین صدر مرسی سے مسلح افواج کی سپریم کونسل کے اقتدار کے دوران مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف مقدمات چلانے اور انھیں سزائیں دینے کے مطالبات کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال نومبر میں فوجی کونسل کی حکمرانی کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں بیالیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جمعرات کو مظاہرین نے وزارت داخلہ کی جانب جانے والی شاہراہ پر رکھی رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی تو پولیس نے انھیں روک دیا اور انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے۔اس دوران مظاہرین نے پولیس اہلکاروں کی جانب پتھراؤ کیا اور پیٹرول بم پھینکے۔ پولیس نے انیس مظاہرین کو گرفتار کر لیا ہے۔