.

جنگ بندی کے 2 دن بعد، غرب اردن میں حماس کے خلاف نیا اسرائیلی محاذ

حماس کے منتخب ارکان اور کارکنوں کے خلاف زبردست کریک ڈاؤن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
انتہاء پسند اسرائیلی حکمرانوں نے حماس کے خلاف غزہ میں کھولا گیا محاذ جنگ بند کرنے کے بعد مغربی کنارے میں تنظیم کے خلاف ایک نیا محاذ کھول لیا ہے۔ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطین کی مجلس قانون ساز میں حماس سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اور کارکنوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کر کے جنگ پسند اسرائیلی وزیر اعظم غزہ سے پسپائی کی ہزیمت ختم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔

جمعرات کے روز سے حماس کے منتخب نمائندوں اور کارکنوں کے خلاف اسرائیلی فوج کے کریک ڈاؤن میں 55 فلسطینی حراست میں لئے جا چکے ہیں۔ اسرائیل نے مغربی کنارے کے صدر مقام رام اللہ سے حماس سے تعلق رکھنے والے فلسطینی قانون ساز کونسل کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹر محمود الرمحی، الخلیل سے رکن اسمبلی باسم الزعایر، طولکرم سے منتخب رکن فتحی عاوی، ریاض رداد اور قلقلیہ سے رکن اسمبلی عماد نوفل کو حراست میں لیا ہے۔ ادھر نابلس سے موصولہ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی گشتی پارٹیوں نے شہر پر ہلہ بولا، تاہم علاقے سے کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔

جمعہ کی صبح سے مقبوضہ بیت المقدس میں بڑے پیمانے پر اسرائیلی پولیس تعینات ہے۔ پولیس کی زیادہ نفری شہر کے مرکز اور پرانے شہر کے داخلی دروازوں پر لگائی گئی ہے۔ نیز شہر کو آنے والے مرکزی راستوں پر لگائے گئے ناکوں اور فوجی اہمیت کی جگہوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بڑی تعداد تعینات ہے۔

اسرائیلی فوج چالیس برس کے کم عمر القدس کے رہائشی فلسطینیوں کو شہر کے پرانے علاقے اور مسجد اقصی میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہی۔ شہر کے داخلی راستوں پر سخت سیکیورٹی ہے اور یہاں سے کلیئرنس ملنے پر ہی لوگوں کو آنے اجازت دی جا رہی ہے، تاہم خواتین بلا روک ٹوک القدس داخل ہو سکتی ہے۔

اسرائیلی فوج نے شہر کی تمام مرکزی شاہراؤں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ گھڑ سوار اور پیدل دستوں کا مشترکہ گشت پرانے القدس شہر کی دیوار سے متصل اور قریبی علاقوں میں جاری رہا۔ القدس شہر کی متعدد کالونیوں، جن میں مسجد اقصی کی جنوبی کالونی سلوان، العیسویہ اور جبل الزیتوں نمایاں ہیں، میں عسکری دستے بڑی تعداد میں تعینات کئے گئے ہیں۔